تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 510

ہیں چنانچہ مسند احمدمیں حضرت ابنِ عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْـمَرِ وَالْاَسْوَدِ (مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عباس)۔میں گورے اور کالے سب لوگوںکی طرف مبعوث ہوا ہوں۔اسی طرح مسند احمد میں عَنْ عَـمْرٍو ابْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ روایت ہے کہ اَمَّا اَنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّھِمْ عَامَّۃً وَّکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّـمَا یُرْسَلُ اِلٰی قَوْ مِہٖ (مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عـمروبن العاص) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری یہ خصوصیت ہے کہ میں تمام بنی نوع انسان کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور مجھ سے پہلے جو رسول تھے صرف اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔اس حدیث میں بھی بے شک اَلنَّاس کا لفظ ہے اور میں نے اوپر کی آیات پر بحث کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عیسائی کہتے ہیں قرآن کریم اَلنَّاس سے مراد ہمیشہ مکہ کے لوگ ہوتے ہیں یہودی اور عیسائی نہیں ہوتے مگر ایک تو یہاں دلیل موجود ہے کہ آپ نے اپنی خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ کَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّـمَا یُرْسَلُ اِلٰی قَوْمِہٖ۔مجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں وہ صرف اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوا کرتے تھے۔چونکہ یہاں قوم کے مقابلہ میں اَلنَّاس کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لئے اَلنَّاس کے معنے ساری دنیا کے ہوں گے ورنہ مکہ کے لوگ تو آپ کے ہم قوم ہی تھے اور اگر اَلنَّاس سے مراد یہاں صرف اہلِ مکہ ہوتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہ رہتی کیونکہ جس طرح پہلے انبیاء اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے اسی طرح اگر آپ بھی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہو گئے تو اس میں کوئی خصوصیت نہیں ہو سکتی تھی۔اصل بات یہی ہے کہ یہاں اپنا اور سابق انبیاء کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقابلہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ پہلے انبیاء تو اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے مگر میں اَلنَّاس کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی غرض یہ ہے کہ میں صرف اپنی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا بلکہ قوم سے زائد لوگوں کی طرف بھی بھیجا گیا ہوں پس اُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّھِمْ عَامَّۃً سے مرادیہاں ساری دنیا ہے محض قوم مراد نہیں۔دوسرے حدیثوں میں صراحتاً اَلنَّاسُ کا لفظ غیر مشرکوں کے لئے بھی بولا گیا ہے گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محاورہ سے ثابت ہے کہ اَلنَّاسُ کا لفظ بولا جاتا ہے اور اُس سے مراد مکہ کے مشرک نہیں ہوتے بلکہ دوسرے لوگ ہوتے ہیں چنانچہ حدیث بدر میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ طلب فرمایا اور مہاجرین یکے بعد دیگرے اُٹھ اُٹھ کر مشورہ دینے لگے تو ہر مہاجر جب مشورہ دے کر بیٹھ جاتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اَشِیْرُوْنِیْ اَیُّـھَا النَّاسُ اے لوگو مجھے مشورہ دو۔اب دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نَاسٌ کا