تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 47

سے رواج پایا جاتا ہے پس بناء، طحیٰ اور تسویہ جس کی طرف منسوب ہوں گے اسی کی طرف بالمعنیٰ ضمیر بھی تسلیم کی جائے گی یعنی بناء طحیٰ اور تسویہ کا جو بانی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی طرف بالمعنیٰ ضمیر تسلیم کی جائے گی۔بہر حال آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آسمانی اور زمینی نظام کے بنانے اور انسانی نفس میں قابلیت رکھنے کے بعد اسے چھوڑ ا نہیں بلکہ اس کے اندر فجور و تقویٰ کی حس رکھی ہے اور اس مادہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔گویا دونوں صورتوں میں خواہ مصدری معنے لئے جائیں یا ’’ما‘‘ کے معنے مَنْ کے سمجھے جائیںآیت کا یہ مطلب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں نفسِ لوّامہ پیدا کیا ہے اور ہر انسان میں یہ مادہ پایا جاتا ہے کہ وہ بعض باتوں کو اچھا اور بعض باتوں کو بر اسمجھتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے سمجھنے میں بہت سے لوگ غلطی کھا جاتے ہیں اور وہ بجائے مسئلہ کو اس رنگ میں پیش کرنے کے کہ ہر انسان کچھ باتوں کو اچھا سمجھتا اور کچھ باتوں کو بُرا سمجھتا ہے وہ اس رنگ میں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہر انسان سمجھتا ہے کہ قتل بُرا ہے یا ہر انسان سمجھتا ہے کہ جھوٹ بولنا بُرا ہے یا ہر انسان سمجھتا ہے کہ ڈاکہ ڈالنا بُرا ہے۔اس پر اس کے مخالف جواب دے دیتے ہیں کہ تم کہتے ہو ہر شخص جھوٹ کو بُرا سمجھتا ہے حالانکہ دنیا میںکئی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیںکہ جھوٹ کے بغیر گذارہ ہی نہیں ہو سکتا۔اگر تمہاری یہ بات درست ہے کہ فجور اور تقویٰ کا الہام اللہ تعالیٰ نے نفسِ انسانی میں کیا ہے تو چاہیے تھا کہ ہر شخص جھوٹ کو بُرا سمجھتا یا ہر شخص قتل کو بُرا سمجھتا مگر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ دنیا میں جھوٹ بولتے ہیں اور چونکہ ان کے نفس میں ہدایت نہیں ہوتی اور متواتر جھوٹ بول بول کر ان کی فطرت مسخ ہو چکی ہوتی ہے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر دنیا میںگزارہ ہی نہیںہو سکتا۔یا مثلاً سختی کا مادہ ہے یہ بہت سے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔میں نے اپنی جماعت میں ہی دیکھا ہے بار بار لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ سختی سے کام نہ لیا کریںمحبت اور پیار سے دوسروں تک اپنی باتیں پہنچایا کریں مگر پھر بھی وہ اپنی عادت سے مجبور ہونے کی وجہ سے بسا اوقات سختی پر اُتر آتے ہیں اور بعض تو مجھے بھی کہہ دیتے ہیں کہ لوگ سختی کے بغیر کبھی نہیںمان سکتے، نرمی کام خراب کر دیا کرتی ہے۔اب اگرہم یہ کہیں کہ ہر شخص سختی کو بُرا سمجھتا ہے تو یہ واقعات کے خلاف ہو گا کیونکہ دنیا میںکئی لوگ سختی سے کام لیتے ہیں اور باوجود سمجھانے کے بھی وہ اپنی اس عادت کو ترک کرنے کے لئے تیا ر نہیںہوتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ نرمی اچھی نہیں دنیا کا اصل علاج سختی ہے۔اسی طرح بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو چوری کو بُرانہیں سمجھتے، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جھوٹ کو بُرا نہیں سمجھتے، بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قتل کو بُرا نہیں سمجھتے۔پس اگر اس کے یہ معنے لئے جائیں کہ ہر انسان چوری کو یا