تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 501

کو حاصل نہیں تھا۔جتنے لوگ ہماری باتیں ماننے والے موجود ہیں اتنے لوگ باتیں ماننے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں موجود نہیںتھے جتنا خزانہ ہمارے ہاتھ میں ہے اتنا خزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں نہیں تھا۔اب بعض دفعہ خدا تعالیٰ ایک ایک دن میں پچیس پچیس تیس تیس ہزار روپیہ چندے کا بھجوا دیتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اتنا چندہ سارے سال میں بھی جمع نہیں ہوتا تھا مگر اس تمام ترقی کے باوجود کون کہہ سکتا ہے کہ یہ زمانہ اس زمانہ سے بہتر ہے۔مجھے یاد ہے جب لنگر خانہ کا خرچ بڑھا اور کثرت سے قادیان میں مہمان آنے شروع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خاص طور پر یہ فکر پیدا ہو گیا کہ اب ان اخراجات کے پورا ہونے کی کیا صورت ہو گی مگر اب یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ایک احمدی لنگر خانہ کا سارا خرچ دے سکتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زلزلہ کے متعلق اپنی پیشگوئیوں کی اشاعت فرما ئی تو قادیان میں کثرت سے احمدی دوست آگئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی دوستوں سمیت باغ میں تشریف لے گئے اور وہاں خیموں میں رہائش شروع کر دی۔چونکہ ان دنوں قادیان میں زیادہ کثرت سے مہمان آنے لگ گئے تھے ایک دن آپ نے ہماری والدہ سے فرمایا کہ اب تو روپیہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی میرا خیا ل ہے کہ کسی سے قرض لے لیا جائے کیونکہ اب اخراجات کے لئے کوئی روپیہ پاس نہیں رہا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ظہر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو اس وقت آپ مسکرا رہے تھے۔واپس آنے کے بعد پہلے آپ کمرہ میں تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے اور والدہ سے فرمایا کہ انسان باوجود خدا تعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھنے کے بعض دفعہ بد ظنی سے کام لے لیتا ہے میں نے خیال کیا تھا کہ لنگر کے لئے روپیہ نہیں اب کہیں سے قرض لینا پڑے گا مگر جب میں نماز کے لئے گیا تو ایک شخص جس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دے دی۔میں نے اس کی حالت کو دیکھ کر سمجھا کہ اس میں کچھ پیسے ہوں گے۔مگر جب گھر آکر اسے کھولا تو اس میں سے کئی سو روپیہ نکل آیا۔اب دیکھو وہ روپیہ آج کل کے چندوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا تھا۔آج اگر کسی کو کہا جائے کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک دن نصیب کیا جاتا ہے۔بشرطیکہ تم لنگر کا ایک دن کا خرچ دے دو تو وہ کہے گاکہ ایک دن کا خرچ نہیں تم مجھ سے سارے سال کا خرچ لے لو لیکن خدا کے لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک دن دیکھنے دو۔مگر آج کسی کو وہ بات کہاں نصیب ہوسکتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام