تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 500
غرض نبی کی وفات کے معاً بعد سے روحانی لحاظ سے رات کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے لیکن جسمانی لحاظ سے نبی کی وفات طلوع فجر پر دلالت کرتی ہے اور معاً بعد سے طلوع آفتاب یعنی ظاہری کامیابیوں کا نظارہ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے ایسا ہی رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوا۔ایسا ہی مسیح ناصریؑ اور موسٰی کے زمانہ میں ہوا اور ایسا ہی اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا۔آپ کے زمانہ میں جو آخری جلسہ ہو ااس میں سات سو آدمی جمع ہوئے تھے۔مجھے یاد ہے آپ سیر کے لئے باہر تشریف لے گئے تو ریتی چھلہ میں جہاں بڑ کا درخت ہے وہاں لوگوں کی کثرت اور ان کے اژدہام کو دیکھ کر آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے ہمارا کام ختم ہوچکا ہے کیونکہ اب غلبہ اور کامیابی کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں پھر آپ بار بار احمدیت کی ترقی کا ذکر کرتے اور فرماتے اللہ تعالیٰ نے احمدیت کو کس قدر ترقی بخشی ہے اب تو ہمارے جلسہ میںسات سو آدمی شامل ہونے کے لئے آگئے ہیں یہ اتنی بڑی کامیابی ہے کہ میں سمجھتا ہوں جس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا تھا وہ پورا ہو چکا ہے اب احمدیت کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔احمدیت کی ترقی حضرت مسیح موعودؑکی وفات کے بعد غرض سات سو آدمیوں کے آنے پر آپ اس قدر خوش ہوئے کہ آپ نے سمجھا جس کام کے لئے مجھے کھڑا کیا گیا تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے مگر اب خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ حالت ہے کہ صرف درس میں ہی آٹھ آ ٹھ سو آدمی جمع ہو جاتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو کہیں باہر سے نہیں آتے بلکہ قادیان میں رہنے والے ہیں اور جلسہ سالانہ پر تو خدا تعالیٰ کے فضل سے پچیس تیس ہزار آدمی باہر سے اکٹھا ہو جاتا ہے۔غرض ہمارا سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی پر ترقی کر رہا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں ٍگذرتا جس میں کوئی نہ کوئی شخص بیعت میںشامل نہ ہو۔ترقی اور عروج اور طاقت میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر اس غلبہ کے باوجود کون کہہ سکتا ہے کہ یہ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کے زمانہ سے بہتر ہے بے شک ہمیں کامیابیاںزیادہ حاصل ہو رہی ہیں، ترقیات زیادہ حاصل ہو رہی ہیں، غلبہ زیادہ حاصل ہورہا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کو یاد کر کے دل تڑپ اٹھتا ہے اور یہ ساری کامیابیاں بالکل حقیر نظر آنے لگتی ہیں۔سَلٰمٌ کے لفظ پر ایک پرانا نوٹ میرے قرآن پر ایک چھوٹا سا پرانا نوٹ ہے جو ان قلبی کیفیات کو خوب ظاہر کرتا ہے جو نبی کا زمانہ دیکھنے والوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔میں نے سَلٰمٌ پر نوٹ لکھا ہے۔’’یعنی اس رات میں سلامتی ہی سلامتی ہے آہ مسیح موعود کا وقت! اس وقت تھوڑے تھے مگر امن تھا ‘‘ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی بڑی ترقیات دی ہیں مگر یہ ترقیات اس زمانہ کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا۔بے شک آج دنیوی لحاظ سے جو رتبہ ہم کو حاصل ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام