تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 499
ہے اور بعد کا زمانہ رات اور اس وجہ سے کہ اس کی تعلیم کی دنیوی شوکت ابھی پورے طور پر نہیں ظاہر ہوئی ہوتی کہ نبی اٹھا لیا جاتا ہے اس کا زمانہ رات کا ہوتا ہے کیونکہ سنت اللہ یہی ہے کہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ تک نبی اپنی قوم میں رہتا ہے۔چونکہ کوئی بھی نبی دنیوی انعامات حاصل کرنے کے لئے نہیں آتا اس لئے جب اس کی قربانیوں کے مادی نتائج نکلنے کا وقت آتا ہے اور وہ بیج اپنا پھل دینے لگتا ہے جو اس نے بویا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے فرماتا ہے تم ہمارے پاس آجائو اور یہ انعام ان دوسروں کے لئے رہنے دو جن کی نگا ہ اسے زیادہ قیمتی سمجھتی ہے۔اسی امر کو مدنظر رکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہؓ کو نجوم قرار دیا ہے کیونکہ نجوم ہمیشہ رات کو ظاہر ہوتے ہیں آپ فرماتے ہیں اَصْـحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّـھِمُ اقْتَدَیْتُمُ اھْتَدَیْتُمْ (تشیید المبانی فی تـخریـج احادیث مکتوبات الامام الربانی) یعنی میرے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے جو برکات نازل کی ہیں ان سے حصہ لے کر میرے صحابہؓ نجوم بن گئے ہیں اب تو دن کا وقت ہے اور سورج اپنی شعاعوں سے دنیا کو منور کر رہا ہے لیکن میرے بعد دنیا پر رات کا زمانہ آجائے گا اس وقت میرے صحابہؓ ستارے بن کر لوگوں کی رہنمائی کریں گے اس لئے میرے بعد وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو رات کی تاریکیوں میں میرے صحابہؓ سے روشنی حاصل کریں گے۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کو دن قرار دیا ہے اور بعد میں آنے والے زمانہ کو رات کہا ہے۔لیکن دوسری طرف جہاں تک ظاہری کامیابیوں اور فتوحات کا تعلق ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ رات سے مشابہت رکھتا تھا اور بعد میں آنے والا زمانہ دن سے مشابہت رکھتا تھا۔چنانچہ دیکھ لو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفات پا گئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہری رنگ میںغلبہ دینا شروع کر دیا یہاں تک کہ اسلام کو ایسی طاقت حاصل ہو گئی کہ ابو بکرؓ کی آواز جب قیصر سنتا تو وہ اس کو رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپؐکا خط جب اس کے پاس گیا تو گو اس پر اثر بھی ہوا مگر پھر اپنی قوم سے ڈر گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوا۔حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو آپ کو ابوبکرؓ سے بھی زیادہ رعب حاصل ہوا۔قیصر صرف ان کی بات کو سنتا نہیں تھا بلکہ ساتھ ہی وہ ڈرتا بھی تھا کہ اگر میں نے اس کے مطابق عمل نہ کیا تو میرے لئے اچھا نہیں ہوگا اور کسریٰ تو اس وقت تک بالکل تباہ ہو چکا تھا۔عثمان ؓ کا زمانہ آیا تو ان کو بھی ایسا دبدبہ اور رعب حاصل ہوا کہ چاروں طرف ان کا نام گونجتا تھا اور ہر شخص سمجھتا تھا کہ مجھے امیرالمومنین کے حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔اب جہاں تک دنیوی اعزاز کا سوال ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عزت حاصل نہیں ہوئی جو ابو بکر ؓاور عمر ؓاور عثمان ؓ کو حاصل ہوئی مگر پھر بھی یہ لوگ روحانی دنیا کے نجوم تھے شمس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔