تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 498
جب وہ اس ظلمت کو دور کردیتا ہے تو اس کا کام ختم ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے کہا جاتا ہے کہ اب تمہارے جانے کا وقت آگیا۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب گمراہی اور ضلالت کی تاریکیوں کو دور کر دیا تو اِذَاجَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ١ؔؕ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا (النصـر:۲تا۴) کے ذریعہ آپ کو وفات کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ اب ہم تمہیں اپنے پاس بلانے والے ہیں پس چونکہ نبی اس زمانہ میں آتا ہے جب چاروں طرف ظلمت چھائی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ اس ظلمت کو دور کر دیتا اور امن اور ترقی اور کامیابی کا زمانہ آجا تا ہے تو وہ فوت ہو جاتا ہے اس لئے اس کے زمانہ کو رات قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا سارا کام رات میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔وہ مشکلات کے زمانہ میں آتا اور مشکلات کا دور ختم ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کے پاس چلا جاتا ہے۔پس چونکہ ظاہری بڑی ترقی نبی کی وفات کے بعد آتی ہے اور کامیابیوں کا سورج ہمیشہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ کے بعد نکلتا ہے اس لئے نبی کے زمانہ کو رات کہا جاتا ہے اگلا زمانہ جو مَطْلَعِ الْفَجْرِ سے شروع ہوتا ہے اور جس میں الٰہی سلسلہ کو دنیا میں غیر معمولی عروج حاصل ہوتا ہے وہ اسی وقت آتا ہے جب فجر کا طلوع ہو جاتا ہے یعنی نبی اپنے رب کے پاس جا چکا ہوتا ہے۔لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جہاں تک روحانی ترقیات کا سوال ہے نبی کا زمانہ روشنی کا زمانہ ہوتا ہے اور نبی کی وفات کے بعد کا زمانہ تاریکی کا زمانہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اس زمانہ میں آسمان سے نزول وحی کا ایک عجیب سلسلہ شروع ہو تا ہے ،برکات وانوار کی بارش ہوتی ہے،معجزات ونشانات کا ظہور ہوتا ہے،روحانیت کی منازل سالوں اور مہینوں کی بجائے دنوں میں طے ہونے لگتی ہیں اور ایمان واخلاص اور محبت باللہ میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر اس زمانہ کو دن کہا جاتا ہے اسے روشنی اور نور کا زمانہ قرار دیا جاتا ہے اور اس زمانہ کو رات قرار دیا جاتا ہے جس میں نبی موجود نہیں ہوتا۔غرض زمانہ تو ایک ہی ہوتا ہے مگر نسبتوں کے فرق کی وجہ سے اسے رات بھی کہا جاتا ہے اور دن بھی۔وہ رات ہوتا ہے بوجہ اپنی پہلی ظلمت کے اور بوجہ اس کے کہ نبی کے زمانہ میں دنیوی ترقیات پوری طرح نہیںہوتیں۔کامیابیوں اور ترقیات کا زمانہ نبی کی وفات کے بعد آتا ہے مگر بلحاظ خاص افضال الٰہی کے یعنی نزول وحی اور نزول برکات اور تکمیل روحانیت کے اس کا زمانہ دن کا زمانہ ہوتا ہے اور اس کے بعد کا زمانہ رات کا زمانہ۔کیونکہ اس زمانہ میں دنیا ان برکات سے محروم ہوجاتی ہے جن سے وہ پہلے متمتع ہوا کرتی تھی۔پس روحانی برکات کے لحاظ سے نبی کا زمانہ دن ہوتا