تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 497
مِنْ كُلِّ اَمْرٍ تک ختم سمجھا جائے تو آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ملائکہ اور روح اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر قسم کی شریعت لے کر آتے ہیں اور اس زمانہ میںطلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی رہتی ہے یعنی یہ ایام خاص نصرتوں اور فضلوں کے ہوتے ہیں۔اور اگر سَلٰمٌ کو دوسرا جملہ اور هِيَ حَتّٰى کو ایک مستقل تیسرا جملہ قرار دیا جائے تو ان آیات کے یہ معنے ہوں گے کہ ملائکہ اور روح ہر قسم کے احکام لے کر اس رات میں اترتے ہیں اے لوگو یہ زمانہ سلامتی ہی سلامتی کا ہے اور یہ تمام فرشتوں کا اترنا اور روح کا آنا اور سلامتی کا پھیل جانا طلوع فجر تک رہے گا۔غرض نحوی طور پر جس قدر معنے اس آیت کے بنتے ہیں وہ سب کے سب اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں۔مَطْلَعِ الْفَجْرِسے مراد اسلام کا غلبہ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ سے کیا مراد ہے؟سو یاد رکھنا چاہیے کہ مَطْلَعِ الْفَجْرِ سے مراد وہ وقت ہے جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو جائے اور یہ غلبہ ہمیشہ نبی کی وفات کے وقت ہوتا ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ’’الو صیت‘‘ میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اے عزیزو!خد اتعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ وہ اپنی دو قدرتیں دکھلاتا ہے تاکہ دشمنوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کرے۔ایک قدرت تو وہ ہوتی ہے جس کا نبی کے ذریعہ اظہار ہوتا ہے جب وہ اس راست بازی کا بیج بو دیتا ہے جس کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے اور دوسری قدرت وہ ہوتی ہے جس کا اس کے خلفاء کے ذریعہ تکمیل کے رنگ میں اظہار ہوتا ہے۔‘‘ پس یہاں مَطْلَعِ الْفَجْرِ سے نبی کی وفات کا زمانہ مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ تمہاری تمام سلامتی اس بات میں ہے کہ تم اس رات کی عظمت کو پہچانو اور وہ قربانیاں کرو جن کا اس وقت تم سے مطالبہ کیا جارہا ہے جب فجر کا طلوع ہو گیا اور نبوت کا زمانہ ختم ہو گیا اس وقت آسمان کی نعمتیں آسمان پر رہ جائیں گی اور زمین ان برکات سے حصہ نہیں لے سکے گی جن سے اس وقت حصہ لے رہی ہے۔نبی کا زمانہ ایک لحاظ سے دن اور ایک لحاظ سے رات اس جگہ یہ نکتہ خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ نبی کے زمانہ کو بار بار دن بھی کہا گیا ہے اور نبی کو سورج۔پھر اس کے زمانہ کو لیلۃالقدر یعنی رات بھی کہا گیا ہے وہی دن اور وہی رات کس طرح ہوا۔سو یاد رہے کہ دو الگ الگ نسبتوں کی بناء پر ایک ہی زمانہ کو دن بھی کہا گیا ہے اور رات بھی۔نبی کا زمانہ رات ہوتا ہے بوجہ اس سے پہلی ظلمت کے۔اور نبی کا زمانہ رات ہوتا ہے بوجہ اس کے کہ