تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 46

مشغول رکھتے تھے تو دوسری طرف بنی نوع انسان کی تکالیف دور کرنے کے لئے اس سے کام لیتے تھے اور یہ تو آپ کی دعویٔ نبوت سے پہلے کی حالت تھی جب آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نبوت کا اعلان فرمایا اور عملی رنگ میں آپ کا ہر کام لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آگیا تو اس وقت آپ اگر فوج کے ساتھ گئے تو بہترین جرنیل ثابت ہوئے، قضاء کا کام اپنے ہاتھ میں لیا تو بہترین قاضی ثابت ہوئے، اِفتاء کا وقت آیا تو بہترین مفتی ثابت ہوئے، تبلیغ کا وقت آیا تو بہترین مبلغ ثابت ہوئے، گھر میں گئے تو بہترین خاوند ثابت ہوئے، بچوں سے تعلق رکھا تو بہترین باپ ثابت ہوئے، دوستوں سے ملے تو بہترین دوست ثابت ہوئے۔غرض کوئی ایک بات بھی نہیں جس میں آپ دوسروںسے دوسرے درجہ پر رہے ہوں بلکہ ہر خوبی میں آپ نے چوٹی کا مقام حاصل کیا اور اس طرح اپنے نفس کے کامل ہونے کا دنیا کے سامنے ایک ناقابلِ تردید ثبوت مہیا کر دیا۔اللہ تعالیٰ نفسِ کامل کی اس شہادت کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے تم غور کرو کہ کیا ایسا شخص جس میں یہ یہ صفات پائی جاتی ہوں کبھی ہار سکتا ہے؟ ایک فن کا ماہر ہار سکتا ہے، دو فنوں کا ماہر ہار سکتا ہے مگر یہ تو وہ ہے جو ہر فن میں کامل ہے۔دنیا اس کے متعلق یہ خیال بھی کس طرح کر سکتی ہے کہ یہ ہار جائے گا اور وہ جیت جائے گی اس میں اگر زیادہ قابلیتیںہوں تو پھر بے شک وہ جیت سکتی ہے لیکن جب کہ اس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میںکوئی قابلیت ہی نہیں پائی جاتی تو وہ جیت کس طرح سکتی ہے؟ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ۰۰۹ پھر اس (یعنی خد ا) نے اس (نفس) پر اس کی بدکاری (کی راہوں) اور اس کے تقویٰ (کے راستوں ) کو کھول دیا۔تفسیر۔اَلْهَمَهَا میں اَلْھَمَ کا فاعل پہلی آیت میں اگر ’’ما‘‘ کے معنے مَنْ کے ہوں گے تو ضمیر ’’ما‘‘ کی طرف جائے گی او ر اگر مصدری معنے لئے جائیںگے تو ضمیر بالمعنیٰ سمجھی جائے گی۔وہ لوگ جنہوں نے ’’ما‘‘ کو مَنْ کے معنوں میں لیا ہے وہ اس موقعہ پر ’’ما‘‘ کو مصدریہ کہنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے معنے درست نہیں اگر درست ہیں تو وہ بتائیں کہ اَلْھَمَھَا میں اَلْھَمَ کا فاعل کون ہے مصدر تو فاعل نہیں ہو سکتا کیونکہ تسویہ الہام نہیں کرسکتا الہا م تو ایک طاقتور ہستی کر سکتی ہے مگر مصدر کے معنے کرنے والے بھی علم ادب کے بہت بڑے ماہر ہیں انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ تمہارا استدلال بالکل غلط ہے۔عربی زبان میں معنوں کی طرف ضمیر پھیرنے کا کثرت