تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 495

بیان کردیا ہے۔تم اس شریعت کے بعد یہ نہیں کہہ سکوگے کہ بنی نوع انسان کی فلاں ضرورت پوری ہونے سے رہ گئی یا فلاں مسئلہ جس کا حل ضروری تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے حل نہیں کیا۔شریعت اپنے کمال پر پہنچ گئی ہے اور ہر ضروری امر جس کا انسان کی اصلاح اور روحانی ترقی کے ساتھ تعلق تھا اسے اس کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے معنے اس لحاظ سے کہ لیلۃ القدر سے مراد مجدّدین کا زمانہ ہے اگر مجد دین پراس پیشگوئی کو چسپاں کیا جائے توپھر مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کااستعمال ایسا ہی ہوگا جیسے ملکۂ سباکے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (النمل:۲۴) کہ اس کو سب ایسی چیزیں دی گئی تھیں جن کی اس کو ضرورت ہو سکتی تھی۔کیونکہ مجددین کے کام کا حلقہ محدود ہوتا ہے اور وہ محض اپنے علاقہ یا اپنی قوم یا اپنے ملک کی خرابیوںکو دور کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس وقت آتے ہیں جب خرابی وسیع اور شدید نہیں ہوتی۔پس ان کا دائرہ عمل ایسا وسیع نہیں ہوتا کہ ساری دنیا کی اصلاح ان کے ذمہ ہو یا ہر قسم کی اصلاح ان کے ذمہ ہو۔پس مجددین پر جب اس پیشگوئی کو چسپاں کیا جائے گا تو مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے معنے سب امور کے نہیں ہوں گے بلکہ سب وقتی ضرورت کے امور کے ہوں گے یعنی جس جس خرابی کی اصلاح کے لئے انہیں ملائکہ کی مدد کی ضرورت ہو گی ان خرابیوں کی اصلاح کے لئے ملائکہ نازل کر دئیے جائیں گے یا اسلام کی ترقی کے لئے جن امور کی انہیں ضرورت ہو گی ان امور میں انہیں ملائکہ کی مدد حاصل ہوگی گویا مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے معنے ہوںگے کل ضروری امور۔لیکن وہ موعود جو بروز کامل کے طور پر ظاہر ہوںگے چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل بروز ہوںگے اس لئے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس آیت کے یہ معنے تھے کہ قرآنی شریعت کو ہر لحاظ سے کامل کیا جائے گا اسی طرح ان کے متعلق اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی ساری خوبیاں مخفی ہوجائیںگی تب اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنے ملائکہ کو نازل فرمائے گا اور قرآن کریم کی تمام خوبیوںکو دنیا پر دوبارہ ظاہر کرے گا۔اس صورت میں مِنْ كُلِّ اَمْرٍ کے معنے صرف ضروری امور کے نہیں ہوں گے بلکہ تمام امور کے ہوں گے یعنی کوئی امر ایسا نہیں ہو گا جس کے لئے آسمان سے فرشتوں کا نزول نہ ہو۔سَلٰمٌ١ۛ۫ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِؒ۰۰۶ (پھر فرشتوں کے اترنے کے بعد تو )سلامتی (ہی سلامتی ہوتی)ہے (اور) یہ (حال )صبح کے طلوع ہونے تک (رہتا)ہے۔حلّ لُغات۔سَلٰمٌ علماء لغت لکھتے ہیں کہ یہاں سَلٰمٌ مُسَلِّمَۃٌ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی