تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 488

اس کے مقابلہ میں بالکل بے حقیقت رہ جائیں گے۔اس وقت جماعت احمدیہ کے علماء کو خواہ کتنی بڑی عزت حاصل ہو اگر ان کے دلوں میں ایمان کا ایک ذرہ بھی پایا جاتا ہو گا تو وہ اپنی ساری عزت اس ذلت کے مقابلہ میں ہیچ سمجھیں گے جو موجودہ زمانہ میں احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے ہماری جماعت کو دیکھنی پڑتی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور امام مالک وغیرہ سے اس زمانہ میں جب دنیا میں چاروں طرف ان کا نام گونج رہا تھا یہ کہا جاتا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم سے یہ ساری عزت لے لی جائے اور تمہیں ابوہریرہؓ کی جگہ کھڑا کر دیا جائے تو وہ بلاتوقف یہی جواب دیتے کہ ہمیں منظور ہے حالانکہ ابوہریرہؓ جو بسا اوقات فاقہ کی وجہ سے بے ہوش ہو جایا کرتے تھے اور لوگ یہ سمجھ کر کہ انہیں مرگی کا دورہ ہو گیا ہے ان کے سر پر جوتیاں مارا کرتے۔غرض فرماتا ہے لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔ہزار عزتیں جو لوگوں کو آئندہ زمانہ میں حاصل ہوں گی اس ایک لیلۃ پر قربان ہیں۔ہم بے شک گمنامی کے لحاظ سے اس زمانہ کو لیلۃ قرار دے رہے ہیں مگر یہ لیلۃ وہ ہے کہ ہزار ظہور اس ایک گمنامی پر قربان ہوگا۔(۲) شَھْرٌ کے معنے عالِم کے بھی ہیں ان معنوں کے روسے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ اس لیلۃ القدر میں جو معارف اور علوم کھلے ہیں وہ ہزار عالم سے بہتر ہیں۔ا س میں کیا شک ہے کہ زمانہء نبوی میں جو تاریکی اور بے دینی میں سارے زمانوں سے بڑھا ہوا تھا قرآن کریم کے ذریعہ سے جو علوم ظاہرہوئے اور خدا تعالیٰ نے عرفان کے جو دریا اس وقت بہادیئے ان کے مقابل پر ہزار عالم بھی تو کچھ بیان نہیں کرسکتا۔مسیحی لوگ کہا کرتے ہیں کہ قرآن پہلی کتب کی نقل ہے اور میں انہیں جواب میں کہا کرتا ہوں کہ وہ کتب جن کی قرآن نے نقل کی ہے اور خود قرآن بھی جو ان کی نقل ہے تم سب مسیحی علماء مل کر اس نقل اور جن کتابوں کی وہ نقل ہے ان سب سے استنباط کرکے اب ایک اور مکمل کتاب کیوں نہیں بنادیتے۔آخر وہ کتب بھی موجود ہیں قرآن کریم بھی موجود ہے اور اس کے بعد جو علوم لوگوں کے نزدیک نئے نکلے ہیں وہ بھی موجود ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان لوگوں کے لئے زیادہ موقعہ ہے وہ کیوں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر ایک اور کتاب امور دینیہ اور احکام شریعیہ کے بارہ میں ایسی نہیں بنادیتے جو قرآن کریم سے افضل ہو۔اگر وہ ایسا کردیں تو بغیر کسی اور دلیل کے اسلام کا خاتمہ ہوجائے گا۔مگر منہ سے رطب ویابس باتیں کرتے جانا اور امر ہے اور کچھ کرکے دکھانا اور بات ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اس لیلۃ القدر میں جو علوم اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے اس کے مقابل پر دنیا کے علماء مل کر بھی کچھ نہیں کرسکتے اور قرآن کریم نے جو یہ کہا کہ ہزار عالم سے بھی وہ لیلۃ القدر اچھی ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ ڈیڑھ ہزار اس سے اچھا ہے۔بلکہ بات یہ ہے کہ عربوں میں ہزار