تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 487
آئندہ زمانہ میں بڑی بڑی عزتوں والے لوگ اس تنگی اور دکھ کی رات کے ایک گھنٹہ کو اپنی باعزت زندگیوں کے سو سال پر ترجیح دیں گے اور دیکھ لوایسا ہی ہوا قرآن کریم کی یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ہم میں سے کس کا دل نہیں کرتا کہ کاش وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اسلام کی خاطر کفار کی ماریں کھا رہا ہوتا۔کاش وہ ان کی سخت سے سخت گالیاں سن کر مزے لے رہا ہوتا۔اصدق الصادقین خدا کا یہ فقرہ کیسا سچا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔یہی حال دنیوی لوگوں کا ہوتا ہے۔نبی کے زمانہ کے لوگ تو تکالیف اور مصائب برداشت کرتے ہیں اور بعد میں آنے والے ان کے بوئے ہوئے بیجوں کے پھل کھاتے ہیں۔بنو عباس اور بنو امیہ اپنے تختوں پر بیٹھ کر کیا کیا بڑائیاں کرتے ہوں گے۔کس طرح فخر سے کہتے ہوں گے تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم عرب کے سردار ہیں۔ہمارے فلاں فلاں حقوق ہیں۔ہمارے مقابلہ میں تم کیا حیثیت رکھتے ہو۔مگر سوال یہ ہے کہ بنو عباس اور بنو امیہ کو بادشاہت کہاں سے ملی؟ان بیجوں سے ملی جو ابوبکرؓاور عمر ؓاور عثمان ؓاور علیؓاور طلحہؓاور زبیر ؓ اور دوسرے صحابہؓ نے بوئے۔ان لوگوں نے بے شک اپنی قربانیوںکے پھل نہیں کھائے مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک کون بڑا ہے کیا عبدا لملک بڑا ہے یا ہارون الرشید بڑا ہے؟خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ بڑے نہیں بلکہ ابو بکر ؓ۔عمرؓ۔عثمانؓ۔علیؓ۔طلحہؓ اور زبیرؓ بڑے ہیں۔بلکہ یہ تو الگ رہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ابوہریرہؓ بڑا ہے جسے بعض دفعہ سات سات وقت تک کا کھانا بھی میسر نہیں آتا تھا بلکہ ابوہریرہ ؓتو کیا ان سے بلالؓ بھی بڑا ہے وہ خواہ غلام تھا مگر اسلام سے پہلے اس کی پھر بھی کچھ عزت تھی جب وہ اسلام لایا تو اس کے اعمال اور اس کی نیکی اور اس کی خصلتوں پر بھی ایک پردہ پڑ گیا اور لوگوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کر دیا مگر انہی تکالیف نے اسے وہ رتبہ بخش دیا کہ ہارون الرشید اور عبدالملک کو اگر اس کے دروازے کی جاروب کشی کی خدمت دی جاتی تو یہ بادشاہت سے زیادہ اعزازہوتا۔یہ سیدھی بات ہے کہ جو لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے یا کسی اور نبی پر ان کو ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی آخر ان میں کوئی نہ کوئی خوبی پائی جاتی تھی ورنہ جب تک انسان کی فطرت میں نیکی نہ ہو قربانی پر کون تیار ہو سکتا ہے۔مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی نبی پر لوگ ایمان لاتے ہیں ان کی نیکیاں لوگوں کو بھول جاتی ہیں اور ان کے اخلاق سب نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں اور وہ دنیا کی نگاہ میں بالکل ذلیل ہو جاتے ہیں۔ہمارے سلسلہ میں بھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے ایک زمانہ میں بادشاہ بھی شامل ہوں گے اور جماعت احمدیہ ترقی کرتے کرتے وہ مقام حاصل کر لے گی کہ دنیا کے تمام مذاہب