تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 486
اچھوں کی اولاد ،خود بھی شریف اور باپ دادا بھی شریف اس کی نیکی کی کوئی حد ہے ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اچھا سنو!وہ مسلمان ہو گیا ہے۔یہ سنتے ہی کہنے لگے بڑا خبیث ہے، خبیثوں کا بیٹا تھا اسی لئے خبیث نکلا۔(البدایۃ والنھایۃ زیر باب فصل فی اسلام عبد اللہ بن سلام) غرض فرمایا ہم نے قرآن کریم کو ایک قدر والی رات میں نازل کیا ہے۔یہ رات لوگوں کی ظاہری عزتوں کو بالکل چھپا ڈالے گی لوگ نیک ہوں گے، معزز ہوں گے،اچھی شہرت رکھنے والے ہوں گے مگرمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد ان کی عزت اور شہرت اور نیک نامی پر رات چھا جائے گی وہ لوگوں کے مطاعن کا ہدف بن جائیں گے اور لوگ کہیں گے کہ وہ بہت برے ہیں۔مگر یہ نہ سمجھو کہ یہ تاریک زمانہ ان کے لئے ذلت کا موجب ہو گا بلکہ نبی کی خاطر اور اس کی معیت میں یہ تکالیف اٹھانا شہرتوں سے اچھا اور زیادہ مبارک ہے۔اس زمانہ کے بعد شہرتوں کا زمانہ آئے گا۔لوگ اسلام کی وجہ سے بڑی بڑی شہرتیں پائیں گے ،بڑی عزتوں سے دیکھے جائیں گے ،بے انتہاء دنیا کمائیں گے مگر ان کی ظاہری عزتیں اور شہرتیںان مار کھانے والوں کے مقابل ہیچ ہوں گی۔چنانچہ دیکھ لو اسلام کے طفیل اور اس کے حلقۂ اثر میں لوگوں نے کتنی کتنی عزت پائی۔کتنا رتبہ پایا دینداروں نے بھی اور دنیاداروں نے بھی۔مگر وہ اس رات میں پیدا ہونے والے لوگوں کا بھلا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔دین میں امام ابوحنیفہ، امام مالک،امام شافعی،امام احمد بن حنبل۔حضرات سید عبدالقادر جیلانی،معین الدین چشتی، شہاب الدین سہروردی، محی الدین ابن عربی نقشبندی، امام غزالی نے اپنے زمانہ میں کتنی عزت پائی۔بادشاہ جوتیاں سامنے رکھنے میں اپنی عزت خیال کرتے تھے یہ عزت ان کی اسلام ہی کی وجہ سے تھی۔اس کے مقابل پر ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ بلکہ ان کے اور ہمارے آقامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃالقدر کے زمانے میں ماریں کھائیں گالیاں سنیں۔مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کے بعد کے بزرگوں کی ترقی کا زمانہ سابق بزرگوں کے تاریک زمانہ سے بہتر تھا۔خدا گواہ ہے کہ اگر ان بزرگوں سے کہا جاتا کہ تمہاری عمر بھر کی شہرت چھین کر ایک گھنٹہ کے لئے تم کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر مار کھانے کے لئے کھڑاکیا جا سکتا ہے تو ان پر شادی مرگ کی حالت طاری ہو جاتی اور وہ کہتے کہ بخدا اس سے بہتر اور کوئی سودا نہیں ہو سکتا۔اس آیت میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں پر کیا برا زمانہ آیا ہے مگر اے سننے والے سن!کہ یہ برا زمانہ تو ضرور ہے تاریکی اپنی انتہا ء کو پہنچی ہوئی ہے مگر یہ تاریک رات لیلۃالقدر ہے۔جو عزت اس رات میں پیدا ہونے سے انسان کو حاصل ہوتی ہے وہ عزت ہزار شہرتوں اور عزتوں سے بالا ہے اور