تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 485

مگر فرماتا ہے کہ جس رات کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ ایک لحاظ سے تو رات ہے کہ اس میں ہزاروں قسم کے فتنے پائے جاتے ہیں اور بے دینی اور الحاد کا زور ہے لیکن اس کے ساتھ اس رات اللہ تعالیٰ کے جلال کے اظہار اور انسانی فطرۃ کی پوشیدہ نیکیوں کے نمود کے بھی اتنے سامان پیدا ہورہے ہیں کہ وہ اپنے وقت پر دنیا کو محو حیرت کر دیں گے اس لئے اس رات کی مخفی طاقتوں پر ہزار اظہار اور نمود قربان ہے کیونکہ جس اظہار اور جس نمود کی بنیاد اس میں رکھی جا رہی ہے اس کے مقابلہ پر کوئی اور اظہار اور نمود نہیں ٹھہر سکتا۔پس گو یہ رات ہے مگر نیکی کی عظیم الشان بنیاد رکھے جانے کی وجہ سے ہزاروں ترقیوں کا زمانہ اس پر قربان ہے۔دوسرے معنے دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ یہ مومنوں کے لئے رات کا زمانہ ہے کہ انہیں ہر قسم کی تکالیف دی جاتی ہیں ،مارا جاتا ہے،پیٹا جاتا ہے۔قتل کیا جاتا ہے۔لیکن یہ رات چونکہ قدر کی رات ہے اس لئے اس زمانہ کی تکالیف اور دکھ آئندہ کے آرام اور سکھ سے زیادہ قیمتی ہیں۔آج وہ زمانہ ہے کہ جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے وہ اپنی تمام عزتوں کو کھو بیٹھتا ہے۔ہر قسم کے طعن وتشنیع کا ہدف بن جاتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اس جیسا برا شخص اور کوئی نہیں۔مگر اس ذلت میں جو مزا ہے ،ان قربانیوں میں جو راحت ہے اور ان تکالیف میں جو سرور ہے وہ ان ہزار عزتوں میں نہیں جو اسلام کی ترقی کے زمانہ میں لوگوں کو حاصل ہوں گی۔چنانچہ دیکھ لو ابوبکرؓاپنی قوم میں بڑا نیک نام تھا سارا عرب اس کی عزت کرتا تھا ،اس کا ادب اور احترام کرتا تھا مگر جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرید بن گیا تو وہی لوگ جو اس کی عزت کرتے تھے اسے گالیاں دینے لگ گئے، اسے برا بھلا کہنے لگے،اسے مارنے پیٹنے لگے اور کہنے لگے کہ ابوبکرؓ اچھا تھا مگر اب خراب ہو گیا ہے۔علیؓ بڑانیک بچہ تھا اس کا باپ عرب کے سرداروں میں سے تھا مگر جب وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا یا تو لوگ کہنے لگے وہ واجب القتل ہے۔اس کا مقاطعہ کیا گیا اس کے منہ پر گالیاں دی جاتیں۔اسے ذلیل اور رسوا کیا جاتا ہے اور لوگ خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے بڑااچھا کام کیا۔عمرؓاپنی مجالس میں بڑی عزت رکھتا ،اہل عرب کے نسب نامہ کے لئے وہ بہترین مؤرخ سمجھا جاتا، نوجوانی کی حالت میں بڑے بڑے سرداروں کی مجلس میں جاتا تو لوگ اسے ادب کے مقام پر بٹھا تے ،اس کے ساتھ عزت سے پیش آتے مگر جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تو سب لوگ اسے برا بھلا کہنے لگ گئے۔اس کی مدح سرائی کی بجائے عیب چینی کی جا تی اور اس کو دکھ دے کر خوشی محسوس کی جاتی۔عبداللہ بن سلامؓایمان لائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کا امتحان لینے کے لئے ان کو جمع کیا اور فرمایا بتائو عبداللہ بن سلام کیسا ہے؟انہوں نے کہا عبداللہ بن سلام کا کیا کہنا ہے نیکوں کا بیٹا،