تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 484

اصل طریقہ یہی ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ سے سارے رمضان میں دعائیں کرتا رہے اور اخلا ص سے روزے رکھے پھر اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں اس پر لیلۃ القدر کا اظہار کر دیتا ہے۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِؕ۰۰۳ اور (اے مخاطب) تجھے کیا معلوم ہے کہ (یہ عظیم الشان)تقدیر والی رات کیا شے ہے۔تفسیر۔تجھے کس نے بتایا ہے کہ لیلۃالقدر کیا چیز ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا یہاں جو منشاء ہے اور جس بات کی طرف اشارہ کرنا ہمارے مد نظر ہے عقلی طور پر تم اس کا اندازہ نہیں کرسکتے۔یعنی انسانی ذہن تو لیلہ سے زیادہ سے زیادہ تاریکی کی طرف جاتا ہے مگر ہماری مراد اس لیلۃالقدر سے ہے جو بے انتہاء برکتوں پر مشتمل ہے اور جس کی عظمت کی طرف عام طور پر انسانی ذہن جاہی نہیں سکتا۔اس طرح وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ کہہ کر معنوں کو بہت وسعت دے دی کیونکہ اس کے معنے ہیں حدقیاس وفہم سے بالا۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ۰۰۴ (یہ عظیم الشان )تقدیر والی رات تو ہزار مہینے سے بھی بہتر ہے۔حلّ لُغات۔شَھْرٌ کےمعنے شَھْرٌ کے معنے عربی زبان میں اظہار کے بھی ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ شَھَرَ کا مصدر بھی بن سکتا ہے۔نیزشَھْرٌ قمر کو بھی کہتے ہیںجب وہ اپنے کمال کے قریب ہو۔اسی طرح شَھْرٌ مہینہ کو بھی کہتے ہیں اور شَھْرٌ کے معنے عالم کے بھی ہیں کیونکہ وہ مشہور ہوتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ہم جس لیلۃالقدر کا ذکر کر رہے ہیں گو اس کا نام لیلہ ہے مگر درحقیقت وہ خَیْرٌ ہزار شَہْر سے بھی زیادہ اچھی ہے۔خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ کے پہلےمعنے شَھْرٌ کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے اظہار کے بھی ہوتے ہیں اور شَھْرٌ قمر کو بھی کہتے ہیں جب وہ اپنے کمال کو پہنچ جائے اور شَھْرٌ مہینہ کو بھی کہتے ہیں اور اس کے معنے مشہور عالَم عالِم کے بھی ہیں۔پس خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ کے ایک یہ معنے ہوئے کہ یہ لیلۃالقدر ہزار اظہار سے بھی بہتر ہے۔لَیْل کے متعلق یہ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ تاریکی پیدا کر دیتی اور اشیاء کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیتی ہے