تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 480

عبادۃ ابن الصامت کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں سے کسی رات لیلۃالقدر ہوتی ہے یا رمضان کی آخری رات میں ہوتی ہے۔(مسند احمد بن حنبل عـن عبادہ بن صامت) بخاری میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ تَـحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْـرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ یعنی حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے وتر راتوں میں لیلۃالقدر کی تلاش کرو(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب تـحری لیلۃ القدر فی الوتر)۔بخاری نے عبادۃالصامت سے روایت کی ہے کہ خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُخْبِـرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلَاحٰی رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ فَقَالَ خَرَجْتُ لِاُخْبِـرَکُمْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فَتَلَاحٰی فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَـرُفِــعَــتْ وَعَــسٰی اَنْ یَّــکُــوْنَ خَــیْــرًا لَّــکُـــمْ فَالْتَمِسُوْھَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْـخَامِسَۃِ (بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب رفع معرفۃ لیلۃ القدر) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لیلۃ القدر کی خبر دینے باہر نکلے۔باہر دوآدمی لڑ رہے تھے آپ نے تقریر کی اور فرمایا میں تو لیلۃالقدر کی خبر دینے نکلا تھا مگر فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے حافظہ سے اس کا علم اٹھا لیا اور شاید اسی میں بہتری ہو۔اب تم اسے انتیسویںیا ستائیسویں یا پچیسویں رات میں تلاش کرو۔لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ان روایات میں جن میں سے اکثر صحاح کی ہیں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔رمضان کی پہلی تاریخ سترھویں، انیسویں، اکیسویں، تیئیسویں، چوبیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں اور تیسویں ساری ہی تاریخوں کو لیلۃالقدر قرار دیا گیا ہے اور عبداللہ بن مسعودؓکے ایک قول کے مطابق تو سارے سال میں کوئی سی رات بھی لیلۃالقدر ہو سکتی ہے (تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر)۔لیکن حدیثوں پر مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے صحیح قول یہی ہے کہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی رات اور خصوصاً طاق راتوں میں سے کوئی رات لیلۃالقدر ہوتی ہے۔ان روایتوں کو ملا کر دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے اترنے کی خواہ کوئی رات ہو لیلۃالقدر اس رات کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ وہ بدلتی رہتی ہے اور رمضان کی آخری راتوں میں سے کسی رات کو اس کا ظہور ہوسکتا ہے کیونکہ اگر قرآن کریم کے اترنے کی رات ہی لازماً لیلۃالقدر قرار دی جاتی۔تو اوّل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ مجھے لیلۃالقدر کا علم دیا گیا تھا مگر فلاں فلاں کی لڑائی کی وجہ سے بھول گیا ہے آخر قرآن کریم آپ