تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 479
نے بیسویں رمضان کی صبح کو تقریر فرمائی اور فرمایا کہ مجھے لیلۃالقدر کی خبر دی گئی تھی مگر میں اسے بھول گیا ہوں اس لئے اب تم آخری دس راتوں میں سے وتر راتوں میں اس کی تلاش کرو۔میں نے دیکھا ہے کہ لیلۃالقدر آئی ہے اور میں مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں اس وقت مسجد نبوی کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی ہوئی تھی اور جس دن آپ نے یہ تقریر فرمائی بادل کا نشان تک نہ تھا پھر اچانک بادل کا ایک ٹکڑاآسمان پر ظاہر ہوا اور بارش شروع ہو گئی پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ آپ کی پیشانی پر مٹی اور پانی کے نشانات ہیں۔ایسا خواب کی تصدیق کے لئے ہوا اور ابوسعید کی ایک روایت میں یہ واقعہ اکیس ۲۱رمضان کو ہوا تھا۔امام شافعی کہتے ہیں اس بارہ میں یہ سب سے پختہ روایت ہے۔عبداللہ بن انیس سے مسلم نے روایت کی ہے کہ تیس رمضان لیلۃالقدر ہے(مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر ) اور ابو دائود طیالسی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیلۃالقدر چوبیسویں رات کو ہوتی ہے(مسند ابی داؤد الطیالسی عن ابی سعید رضی اللہ عنہ )۔مسند احمد بن حنبل نے بھی حضرت بلال ؓسے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلۃالقدر چوبیسویں رات کو ہوتی ہے۔امام بخاری نے بلالؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آخری سات راتوں میں سے پہلی رات لیلۃالقدر ہوتی ہے یعنی یا تیئیسویں یا چوبیسویں۔مسند احمد کی یہ روایت پہلے درج ہو چکی ہے کہ قرآن چوبیسویں رمضان میں نازل ہونا شروع ہو ا تھا۔بخاری نے عبداللہ بن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیلۃالقدر کو رمضان کی آخری دس تاریخوں میں تلاش کرو۔جب نو باقی ہوں یا سات باقی ہوں یا پانچ باقی ہوں(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب تـحری لیلۃ القدر فی الوتر)۔گویا اکیسویں تیئیسویں اور پچیسویں رمضان میں لیلۃالقدر ظاہر ہوتی ہے۔مسلم نے ابی ابن کعب سے روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لیلۃالقدر ستائیسویں رمضان کو ہوتی ہے(مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر)۔عبداللہ بن عباسؓاور معاویہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ سے بھی روایت ہے کہ لیلۃالقدر ستائیسویں رمضان کو ہوتی ہے (تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر) عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ حضرت عمرؓنے صحابہ کو جمع کیا تو سب نے اتفاق کیا کہ وہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کسی میں ہوتی ہے(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر)۔