تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 463

بعض اعمال کی سزا جن کی سزا اس دنیا میں مقدر ہے ان کو یہاں دے گا تا اس عذاب کی وجہ سے ان کے دل میں توبہ کی طرف توجہ پیدا ہو اور وہ دوبارہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔اللہ تعالیٰ اسی تاریکی کی حالت کی طرف اشارہ کر کے اس آیت میں فرماتا ہے اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقیناً لیلۃ القدر میں مبعو ث فرمایا یعنی ایسی روحانی رات میں جو تقاضا کرتی ہے کہ اس میں کوئی رسول نازل کیا جائے جو لوگوں کی اصلاح کرے اور انہیں تاریکی سے نکالے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے يٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ يَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ (المائدۃ:۱۶،۱۷) یعنی اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس اس لئے آیا ہے کہ بہت سے انوار بائبل کے جو تمہاری بد عملیوں کی وجہ سے ظاہر نہ ہوسکتے تھے تم پر دوبارہ ظاہر کرے اور تمہاری کمزوریوں سے در گذر کرے سنو!تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور (یعنی رسول) اور سب باتیں کھول کر بیان کرنے والی ایک کتاب آئی ہے ان میں سے ہر ایک کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں جو ا س کی با ت پر چلتے ہیں سلامتی کے راستوں کی طرف ہدایت بخشتا ہے اور اللہ کا رسول اللہ کے حکم سے انہیں جو اس کی بات مانتے ہیں موجودہ ظلمت سے نکال کر خاص نور کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی طرف لے جاتا ہے۔اس آیت سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تاریکی کا زمانہ تھا یعنی ایک روحانی رات تھی اور ایسے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کو نازل کرکے بنی نوع انسان کو پھر سے سلامتی کی راہیں دکھائیں اور ترقیات کے راستے ان کے لئے کھولے۔اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ میں ضمیر کا مرجع آنحضرتؐ پس اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں ہُ کی ضمیر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی جا سکتی ہے اور اس کا قرینہ بھی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح سورۃ العلق میں جو اس سے سے پہلی سورۃ ہے اِقْرَاْ کے الفاظ سے قرآن کریم کو پیش کیا گیا تھا اسی طرح اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر تھا۔چنانچہ اس سورۃ کی مندرجہ ذیل آیات میں آپ ہی کا ذکر ہے۔اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يَنْهٰى عَبْدًا اِذَا صَلّٰى یعنی تو مجھے اس شخص کا حال تو بتا جو ایک ’’ عظیم الشان بندہ ‘‘ کو جب وہ نمازپڑھتا ہے نماز پڑھنے سے روکتا ہے۔پس جس طرح اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ میں قرآن کریم کی طرف ضمیر جاسکتی ہے جیسا کہ پہلے بیان کردہ معنوں میں مَیں نے اس طرف ضمیر