تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 462
الْمُلْكُ ( الزمر:۷) یعنی خد اتعالیٰ تمہاری مائوں کے پیٹ میں درجہ بدرجہ تین قسم کی ظلمتوں میں سے گذارتے ہوئے تمہیں پیدا کرتا ہے جس کے بعد تم ایک مکمل انسان بن جاتے ہو۔تمہارا رب ایسا ہے سب اختیا ر اسی کے قبضہ میں ہے۔پس جس طرح رحم مادر جس کے اندر نطفہ ٹھہر گیا ہو گو ایک تاریک کوٹھڑی کی طرح ہوتا ہے اس میں انسانی پیدائش کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔اسی طرح لیلۃ القدر رحم مادر کی طرح بظاہر تاریک ہے لیکن قوم اور نسل کی پیدائش کی بنیا د اس میں رکھی جاتی ہے۔(۳)تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا ہے یعنی اس زمانہ میں پیدا کیا گیا ہے جس میں لوگ اللہ تعالیٰ سے دور چلے جاتے ہیں اور آسمانی نور با لکل کھینچ لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے انسان محروم رہ جاتا ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کا کوئی خاص بندہ نازل ہوتا ہے جو دوبارہ دنیا کو روشنی اور ہدایت کی طرف لاتا ہے۔یہی رات نبی کی سچائی کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے۔اگر دنیا پر تاریک روحانی رات نہ آئی ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاحی نبی نہیں آیا کرتا۔انبیاء کی دو قسمیں تعمیری و اصلاحی انبیاء کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تعمیری اور ایک اصلاحی۔تعمیری انبیاء وہ ہوتے ہیں جو عقائد یا مسائل مہمہ میں خرابی کے وقت نازل ہوتے ہیں اور ایک نئے دین کی تعمیر کرتے ہیں یا ایک نئی تشریع کی بنیاد رکھتے ہیںاور اصلاحی وہ جو بغیر خرابی کے وقوع کے نبی کے کام کو جاری رکھنے کے لئے آتے ہیں۔تعمیری نبی ایسے ہیں جیسے حضرت موسٰی، حضرت مسیحؑ اور آنحضرت صلعم کہ یہ اس وقت آئے جب شرائع مٹ چکی تھیں یا ان کے معنے لوگوں کی نظروں سے غائب ہو چکے تھے۔اور اصلاحی نبی ایسے ہیں جیسے کہ حضرت ابراہیمؑ کے بعد اسحاقؑ ان کے بعد یعقوبؑ ان کے بعد یوسفؑ۔ان نبیوں کے وقت میں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی تھی جسے مٹانے اور پھر شریعت کو قائم کرنے کے لئے وہ آئے ہوںبلکہ ان کی بعثت کی غرض صرف یہ تھی کہ تعلیم الٰہی جو آچکی تھی اسے اپنے عمل اور نگرانی سے وہ مزید راسخ کریں یا جو اب تک نہیں مانے ان میں پھیلائیں۔اصل میں تو یہ دونوں قسم کے نبی ایک نسبتی رات کے وقت میں ظاہر ہوتے ہیں لیکن تعمیری نبیوں کے زمانہ کی تاریکی ظاہر وباہر ہوتی ہے اور اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ(الروم:۴۲) یعنی یقیناً خشکی اور تری میں یعنی نبیوں کو ماننے والی اور نہ ماننے والی قوموں میں فساد ظاہر ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ انسانوں کے اعمال سے ہوا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا کلام چھوڑ دینے کی وجہ سے یہ حالت پیدا ہوئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے