تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 461

بیمار ہو یا پانی نہ ملے تو وہ بغیر وضو کے تیمم سے بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔اگر اتنا بیمار ہے کہ کھڑا نہیں ہو سکتا تو گھر میں بیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتا ہے اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کی طاقت نہیں تو لیٹے ہوئے سر کے اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتا ہے۔اگر اس حالت سے بھی گیا گذرا مریض ہے تو وہ انگلی یا آنکھ کے اشارہ سے بھی نماز ادا کر سکتا ہے اور جو اس کی بھی طاقت نہ رکھے وہ صرف دل میں ہی نماز کے مضمون کو دہرا کر اپنی نماز ادا کر سکتا ہے۔بیہوش ہو جائے تو وہی نماز دوسرے وقت میں ادا کرسکتا ہے اور یہ ایک ہی مثال نہیں بلکہ ہر حکم کے متعلق اسی طرح ضرورت اور طاقت کے مطابق تبدیلی پیدا کی گئی ہے۔پس قرآن کریم کی تعلیم سہولت والی تعلیم ہے۔اگر کوئی کہے کہ یہاں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ہے یہ کیوں نہ کہا گیا کہ قرآن ایسا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ پر خالی قرآن کا مضمون بیان نہیں بلکہ اس سے زیادہ مضامین کی طرف اشارہ کرنا مد نظر ہے۔جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ذکر ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع اظلال کا بھی ذکر ہے۔اگر آیت کے یہ الفاظ ہوتے کہ قرآن کریم ایسی ایسی شان کا ہے تو یہ مضمون باہر رہ جاتے۔پس زمانہ کی طرف وہ صفات منسوب کر دی گئی ہیں تا کہ یہ مضمون یکساں طور پر کتاب پر بھی چسپاں ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی چسپاں ہو اور دوسرے معموروں پر بھی چسپاں ہو۔لیلۃ القدر سے مراد خاص رات یا تاریک زمانہ جیسا کہ اوپر کے مضمون سے ظاہر ہے میں نے لیلۃالقدر کے دونوں معنے لئے ہیں (۱)یہ بھی کہ وہ معین رات جس میں قرآن کریم نازل ہوا قرآن کریم کے نزول کی وجہ سے ایسی اہمیت رکھتی ہے کہ اسے لیلۃ القدر کہنا چاہیے(۲)اور یہ معنے بھی میں نے لئے ہیں کہ لیلہ سے مراد وہ رات نہیںجس میں قرآن کریم نازل ہوا بلکہ وہ تاریک زمانہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا اور یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے تاریک زمانوں میںہی خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آکر آئندہ نیکی اور تقویٰ کی بنیا د رکھا کرتی ہے اور جب تاریکی بڑھتے بڑھتے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچتی ہے تو اس وقت وہ تاریکی کا زمانہ بظاہر تاریک ہوتا ہے لیکن بالقوہ اس کے اندر قدرت خدا وندی پائی جاتی ہے گویا لیلۃ القدر ایک جہت سے رات ہے اور ایک جہت سے دن سے بھی زیادہ شاندار ہے۔وہ اظہار قدرت کا وقت بھی ہے اور وہ تاریک وقت بھی ہے۔دنیا کی نگاہوں میں وہ تاریکی کی انتہاء کو ظاہر کرنے والا وقت ہے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ آئندہ آنے والی عظیم الشان روشنی کے لئے ایک بیج کا کام دے رہی ہے گویا اس رات کی مشابہت رحم مادر کے ساتھ ہے جبکہ اس کے اندر نطفہ پڑ چکا ہو تا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ