تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 460

دیتی ہے اور تمام ضروری امور اس میں بیان ہوئے ہیں پس اس کا نزول غناء والے زمانہ میں ہوا ہے۔پانچویں معنے پانچویں معنے اس لفظ کے قوت کے ہیں جس کے رو سے اس آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم قوت والی رات میں نازل ہوا ہے یعنی اس رات کے ساتھ خدا تعالیٰ کی قوت اور اس کی طاقت وابستہ ہے۔چنانچہ یہ معنے بھی قرآن کریم پر صادق آتے ہیں اور یہ معنے مفردات امام راغب کے معنوں کے سلسلہ میں اوپر بیان ہو چکے ہیں اس لئے اس جگہ اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔چھٹے معنے چھٹے معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم سہولت والی رات میں نازل ہوا ہے۔یہ معنے بھی قرآن کریم اور اس کے زمانہ پر صادق آتے ہیں۔پہلی کتابوں کو دیکھو ان کے اندر مذہب کو بھول بھلیاں بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔نہ عقائد سمجھ میں آسکتے ہیں نہ اعمال قابل اتباع ہیں۔یہودیوں اور ہندوئوں کی تعلیم عبادت کے متعلق اگر لی جائے تو اتنی اتنی شرطیں بلا وجہ عبادت کے ساتھ لگا دی گئی ہیںکہ اوّل تو سارے آدمی اس طرح عبادت کر ہی نہیں سکتے اور اگر کریں تو تکلیف مالا یطاق میں پڑتے ہیں۔دوسرے ایسے وہموں میں مبتلا ہوتے ہیں جن کو تسلیم کرنا انسانی دماغ کے لئے بڑا دوبھر اور مشکل ہوتا ہے۔قرآن کریم ہی ایک ایسی تعلیم ہے جس کا ماننا انسان کے لئے آسان اور جس پرعمل کرنا بھی انسان کے لئے آسان ہے۔چنانچہ قرآن کریم خود یہ دعویٰ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ( القمر:۱۸)ہم نے قرآن کریم کو کیا بلحاظ دماغ کے اور کیا بلحاظ عمل کے آسان کر دیا ہے۔پس کیا کوئی شخص ایسا ہے جو نصیحت حاصل کرے یا عمل کرے۔اس جگہ پر لفظ ذکر استعمال کر کے دونوں معنے لے لئے گئے ہیں۔ذکر کے معنے یاد کرنے کے بھی ہوتے ہیں اور عمل کرنے کے بھی ہوتے ہیں پس اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیمات کا دماغ سے گذرنا بھی انسان پر آسان رہتا ہے یعنی ان کا ماننا انسان کو دوبھر معلوم نہیں ہوتا اور قرآن کریم کی تعلیموں پر عمل کرنا بھی انسان کے لئے آسان ہوتا ہے کیونکہ اس میں ہر طاقت اور قوت اور ضعف اور کمزوری کالحاظ رکھا گیا ہے۔مثلاً نماز کا حکم ہے اس کے لئے ارشاد ہے کہ نماز مسجدوں میں پڑ ھنی چاہیے (ابوداؤد کتاب الصلاۃ باب فی الجمع فی المسجد) لیکن ساتھ ہی یہ ارشاد ہے کہ ساری زمین ہی خدا تعالیٰ کی مسجد ہے (بخاری کتاب الصلاۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدا) گویا نہ کسی خاص قسم کے مکان کی ضرورت ہے نہ خاص قسم کے سامان کی ضرورت ہے نہ نماز پڑھانے کے لئے کسی خاص قسم کے پادری یا پنڈت کی ضرورت ہے۔جس زمین کو چاہو صاف کر لو اور مومنوں میں سے جس کو چاہو آگے کھڑا کر کے نماز پڑھ لو۔لیکن اگر کوئی شخص بیمار ہے یا سفر پر ہے تو جماعت کے بغیر بھی نماز ہو سکتی ہے۔نماز کے لئے وضو کی شرط ہے لیکن اگر انسان