تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 448
پر جو ابتدائی زمانہ روحانی گرمی کا آیا اس میں ابراہیم علیہ السلام پر کلام نازل ہوا اور جب دوسرا زمانہ روحانی تپش اور گرمی کا آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی کو بھیج دیا اور جب تیسرا زمانہ آیا تو دائود علیہ السلام کو بھیج دیا اور جب چوتھا زمانہ آیا تو حضرت مسیحؑ کو بھیج دیا اور جب پانچواں زمانہ آیا تو مجھے بھیج دیا۔اس صورت میں یہ ایک نصیحت ہے اور زمانہ کے حالات سے ایک سبق دیا گیا ہے اور اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ رمضان میں ان لوگوں پر کلام نازل ہوا سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کے بارہ میں قوی تاریخی شہادت ملتی ہے کہ آپ پر رمضان میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا تھا۔صحفِ ابراہیم، توراۃ، انجیل کے رمضان میں اترنے کی ایک لطیف تشریح ان مجازی معنوں کے رو سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس حدیث میں متواتر تاریخوں میں نزول کلام کا ذکر نہیں بلکہ یوں ہے کہ پہلی رمضان کو ابراہیمؑ پر کلام نازل ہوا۔چھٹی کو موسٰی پر اور بارھویں کو دائودؑ پر اور اٹھارھویں کو مسیحؑ پر اور چوبیسویں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔اگر ہم غور سے دیکھیں تو تاریخ سے ابراہیمی نسل کے انبیاء کا ظہور جن صدیوں میں معلوم ہوتا ہے یہ تاریخیں اس سے ملتی ہیں۔حضرت ابراہیم ابراہیمی نسل کے انبیاء کے سب سے پہلے نبی تھے اس لئے لازماً کہنا ہوگا کہ ان پر وحی ابراہیمی سلسلہ کی تاریخ کی پہلی صدی میں ہوئی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق اختلاف ہے۔مروجہ بائبل میں اسے ۴۲۰ سال کے قریب بتایا گیا ہے مگر بعض اسرائیلی روایتوں میں حضرت موسٰی کا ظہور چھٹی صدی میں بھی بتایا گیا ہے۔اگر اسے درست سمجھا جائے توموسٰی پر چھٹی رمضان کو کلام نازل ہونا درست آتا ہے۔اس کے بعد حضرت دائودؑ کا ذکر ہے کہ ان پر بارھویں رمضان کو کلام نازل ہوا۔حضرت دائودؑ کا وجود اس کڑی کے لحاظ سے خاص اہمیت نہیں رکھتا۔اصل اہم وجود اس کڑی میں حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسٰیؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ ابراہیم باپ ہیں اور موسیٰ عیسیٰ ایک بیٹے کے سلسلہ کی کڑی ہیں اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعودؑ دوسرے بیٹے کے سلسلہ کی کڑی ہیں۔مسند احمد بن حنبل کی روایت میں حضرت دائود کا ذکر بھی نہیں۔بہرحال یہ جو دوسری روایت میں ہے کہ دائودؑ پر بارھویں تاریخ کو کلام نازل ہوا یہ مروجہ تاریخوں کے مطابق صحیح نہیں اُترتا کیونکہ مروجہ تاریخوں میں حضرت دائود کا زمانہ حضرت ابراہیمؑ کے نو سو سال بعد ہوا ہے مگر پرانی تاریخوں کاکوئی ایسا اعتبار بھی نہیں ہوسکتا ہے کہ اس میں کوئی غلطی ہو اور حضرت دائودؑ گیارہ سو سال بعد بارھویں صدی میں ہی ہوئے ہوں۔اس کے بعد حضرت مسیح کا ذکر آتا ہے بائبل کے رو سے واقعہ صلیب حضرت ابراہیم کی بعثت کے ۱۹۲۰ سال بعد ہوا ہے اور ان کی وفات کے لحاظ سے ۱۸۰۰ کچھ سال بعد۔