تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 431

گومیرے نزدیک اس کی تعبیر یہ تھی کہ اپنے بیٹے کو اس وادیٔ غیر ذی زرع میں چھوڑ آئو جہاںنہ کھانے کو کچھ ملتا ہے نہ پینے کو۔اور اس طرح ظاہری رنگ میں اپنی طرف سے اس پر موت وارد کر دو۔مگر چونکہ اس وقت تک انسانی قربانی کا بھی رواج تھا اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میںان کو یہ نظارہ دکھا دیا تا کہ ساتھ ہی اس مسئلہ کو بھی حل کر دیا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے دستور کو دیکھتے ہوئے سمجھا کہ یہ میرا امتحان ہے اور غالباً اللہ تعالیٰ کی مراد یہی ہے کہ اسّی سال کے بعد میرے ہاں جو بیٹا پیدا ہوا ہے میں اسے عملاً اللہ تعالیٰ کی راہ میںذبح کر دوں۔انہوں نے اپنے بیٹے سے ذکر کیا حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے (کہ ہمارے نزدیک وہی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کیا اس اچھی تربیت کے ماتحت جو اپنے ماں باپ سے انہیں حاصل ہو رہی تھی) اس بات پر آمادگی کا اظہار کر دیا اور کہا کہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ مجھے ذبح کر دیا جائے تو پھر مجھے اس حکم کی تعمیل میں کوئی عذر نہیں ہو سکتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے جنگل میں لے گئے اور انہوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ماتھے کے بل گرادیا وہ چھری پھیرنے کے لئے تیار ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا يٰۤاِبْرٰهِيْمُ۠ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا(الصّٰفّٰفت:۱۰۵،۱۰۶) اے ابراہیم تم نے اس رؤیا کو اپنی طرف سے پورا کردیا ہے لیکن ہمارا منشاء یہ نہ تھا تم اس واقعہ کی یادگار میں ایک بکرا ذبح کر دو۔یہ خواب کسی اور صور ت میں پورا ہونے والا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ گھڑی جس میں وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہوگئے تھے یقیناً کئی لوگوں کی اسّی اسّی بلکہ سو سو سال کی عبادت سے بھی بڑھ کر تھی۔آخر دنیا میںایسے کئی لوگ موجود ہوتے ہیں جو اسّی سال کی عمر پاتے ہیں بلکہ سو سو سال تک زندہ رہنے والے لوگ بھی دنیا میںپائے جاتے ہیں۔ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے ایک سو بیس ، ایک سو تیس۔ایک سو چالیس یا ایک سو پچاس سال کی عمر پائی۔میںنے خود ایک شخص کو دیکھا ہے جنہوں نے ایک سو چالیس سال سے اوپر عمر پائی تھی۔وہ جب میری بیعت کے لئے آئے تو لاہور سے پیدل چل کر آئے تھے۔انہوں نے اپنی عمر کا ذکر کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب ایک دفعہ میرے استاد کے پاس کسی کام کے متعلق دعا کرانے کے لئے آئے تھے اور انہوں نے ایک بھینس ان کو تحفہ کے طور پر دی تھی میںاس وقت اتنا جوان تھا کہ وہ بھینس جو مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب نے میرے استاد کو دی اس کے متعلق میرے استاد نے مجھے کہا کہ جائو اور اس کو نہلا لائو۔یہ روایت انہوں نے آج سے بیس سال پہلے بیان کی تھی اگریہ فرض کر لیا جائے کہ اس وقت وہ صاحب بیس پچیس سال کے تھے جب یہ واقعہ ہوا تو چونکہ بیعت