تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 412

کہ میں کہاں کا ٹکٹ لوں،کتنا روپیہ اپنے پاس رکھوںاور کیا کیا چیزیں ساتھ لے جائوں۔ہندوستان میں کسی سفر کے لئے گھر سے نکلواوربستر ساتھ نہ ہو تو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہوٹلوں میں اوّل تو بستر ملتا ہی نہیں اور اگر ملے گا تو ایسا گندہ اور غلیظ اور ناپاک اور بدبودار کہ کئی قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔لیکن اسی خیال کے ماتحت ا گر کوئی انگلستان جاتے ہوئے بستر اپنے ساتھ لے جائے تو ہر مرد عورت اور بچہ اسے دیکھ کر ہنسنے لگ جائے گا کہ یہ کیسا انسان ہے سفر میں اپنے ساتھ بستر لئے پھرتا ہے۔انگلستان میں یہ دستور ہے کہ انسان جس جگہ ٹھہرے وہاں سونے کے لئے اسے مالک مکان کی طرف سے بستر دیا جاتا ہے۔ہرہوٹل میں روزانہ بستر تبدیل کئے جاتے ہیں اور چادر پر ایک معمولی داغ بھی رہنے نہیں دیا جاتا۔وہاں یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ہوٹل کا بستر اگر استعمال کیا گیا تو وہ گندہ ہوگا کیونکہ ہر اچھے ہوٹل میں ایسا انتظام ہوتا ہے کہ روزانہ اوپر نیچے کی چادریں بدلی جاتی ہیں۔یہ نہیں ہوگا کہ ایک مریض کا کمبل دوسرے کو دے دیا جائے اور دوسرے کی میلی کچیلی چادر تیسرے کے نیچے بچھادی جائے وہاںروزانہ دھوبی سے دھلی دھلائی چادریں آتی ہیںاور بستروں پر بچھادی جاتی ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوتاکہ ایک کا کپڑا دوسرے کو دے دیں۔یہی رواج ہزارہ میں بھی ہے وہاں غریب سے غریب آدمی بھی دس پندرہ بستر ضرور رکھ لیتا ہے تاکہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو اگر وہاں کوئی شخص بستر اپنے ساتھ لائے تو میزبان سخت برا مناتا ہے کہ تم نے مجھ پر بے اعتباری کی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہزارہ کے لوگ ہمارے سالانہ جلسہ پر آتے ہیں تو اپنے بستر ساتھ نہیں لاتے وہ سمجھتے ہیں بستر ساتھ لے جانا بڑی کمینگی ہے مگر یہاں آکر انہیں سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے کیونکہ یہاں یہ رواج ہے کہ ہر شخص بستر اپنے ساتھ رکھتا ہے اسی طرح ہزارہ میں یہ رواج ہے کہ لوگ روپیہ اپنے ساتھ نہیں رکھتے جس کسی کے ہاں ٹھہرتے ہیںاس کا فرض ہوتا ہے کہ کرایہ ادا کرے۔چنانچہ چلتے ہوئے وہ بڑے اطمینان سے کہتے ہیں کہ اب کرایہ لائو ہم واپس جانا چاہتے ہیں۔اب دیکھو ہزارہ کوئی زیادہ دور نہیں۔چند گھنٹوں کے سفر کے بعدانسان وہاں پہنچ جاتا ہے مگر عادات اور رسوم ورواج میں کس قدر فرق ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے اگر ان حالات کو معلوم کئے بغیر کوئی شخص دوسرے مقام پر چلا جائے تو یہ لازمی بات ہے کہ اسے سخت دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا ان لوگوں کو اتنی بھی سمجھ نہیں آتی کہ مذ ہب اور دین کا اصل تعلق موت کے بعد کی زندگی سے ہے اور یہ زندگی وہ ہے جس کے حالات سے یہ لوگ محض بے خبر ہیں ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس زندگی کو دیکھ کر آیا ہوں اس لئے مجھے کسی اور کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔جب ان لوگوں کو اس زندگی کے