تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 408

انگلستان میں ایک دفعہ ایک پائلٹ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ ہوا۔جب وہ سترہ ہزار فٹ کی بلندی سے اوپر گیاتو یک دم اس نے دیکھا کہ اس کے ساتھی نے زور سے اس کی گردن پکڑلی ہے اور وہ اس کے گلے کو دبا کر اسے ہلاک کرنا چاہتا ہے۔اس نے چونکہ ہمالیہ پہاڑ کے واقعات اکثر سنے ہوئے تھے اور وہ جانتا تھا کہ اوپر پہنچ کر ہوا کے ہلکاہونے کی وجہ سے انسان اپنے دماغی توازن کو قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے وہ جھٹ اپنے جہاز کونیچے کی طرف لے آیا۔جب وہ سات آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر آپہنچا تو اس کا دوست ہوش میں آگیا اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرنے لگا۔غرض ہر چیز کا ایک دائرہ عمل ہوتاہے جس سے وہ باہر نہیں جاسکتی۔یہی حال انسان کا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے خاص طور پر اعلیٰ درجہ کی طاقتیں دے کر بھیجا گیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنی لائن کے علاوہ دوسری لائن میں بھی قابلیت کے جوہر دکھاسکتا ہے۔گھوڑا ساٹھ ساٹھ بلکہ سو سو میل تک بعض دفعہ ایک سانس میں دوڑ سکتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ عقلی کاموں میں بھی انسان کا مقابلہ کرسکتا ہے۔بے شک دوڑنے کے کام میں ایک گھوڑا بہتر سے بہتر تیز رفتار انسان سے بھی زیادہ تیز دوڑے گا مگر جہاں عقل کا سوال آئے گا وہاں ایک گھوڑا ادنیٰ سے ادنیٰ اور بیوقوف سے بیوقوف انسان جتنا کام بھی نہیں کرسکے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو درست ہے کہ ہم نے انسان کو طاقتیں دی ہیں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اپنی حد سے آگے نکل سکتا ہے۔جوکام اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے وہاں تک اس کی رسائی نہیں ہوسکتی۔وہ کام اگر کرے گا تو اللہ تعالیٰ ہی کرے گا انسان اپنی عقل سے اسے سرانجام نہیں دے سکتا۔پس كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰۤى میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ وسوسہ جو بعض قلوب میں پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کوئی تعلیم بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ہم اپنے لئے آپ ہی ایک مذہب بنالیں گے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ایسے خیالات اسی شخص کے دل میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنی حد سے آگے نکل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کام بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کرسکتاہے۔بندے کا کام نہیں کہ وہ اس میں دخل دے سکے۔بے شک اس نے تمہیں طاقتیں دی ہیں مگر وہ غیرمحدود نہیں بلکہ ایک حد کے اندر ہیں۔اسی طرح بے شک اس نے تمہیں عقل دی ہے مگر وہ بھی تمہاری ذاتی طاقتوں تک محدود ہے۔تم میں یہ طاقت نہیں کہ اپنے لئے خودبخود کوئی مذہب بنالو یا اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے وسائل اپنی عقل سے تجویز کرسکو۔