تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 407
ہوسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کو صحیح طور پر وہی شخص خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر سکتا ہے جس کی الہام الٰہی نے راہنمائی کی ہو یاجسے ایسے الہام الٰہی کا علم حاصل ہو۔ایک دہریہ بظاہر خدا تعالیٰ کا منکر ہے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ وہ صفتِ خلق کو یا قانونِ قدرت کی طرف منسوب کرتا ہے یا اتفاق کی طرف منسوب کرتا ہے اور گو وہ خدا تعالیٰ کا قائل نہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے ماننے والے کے نزدیک تو اُس نے شرک ہی کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت کسی اور کی طرف منسوب کر دی۔پس خود دہریہ کے نقطہ نگاہ سے وہ منکر ہے مگر مذہبی آدمی کے نقطہ نگاہ سے وہ مشرک ہے کیونکہ اُس نے خدائی صفات کو دوسرے کی طرف منسوب کردیا۔بہرحال قرآن کریم نے دنیا کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے ایک اہلِ کتاب اور دوسرے مشرک۔جب قرآن کریم اہلِ کتاب اور مشرک کے الفاظ اکٹھے استعمال کرے تو اُس کی اصطلاح کے رُو سے اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ سب غیر مسلم دنیا۔یہ تمہید میں نے اس لئے اٹھائی ہے کہ اگلا مضمون اس کے بغیر سمجھ نہیں آ سکتا۔مسیحی مصنفین کا قرآن مجید کو غیر اہل کتاب کے لیے مخصوص کرنا اور اس کی تردید یاد رکھناچاہیے کہ اِس سورۃ میں ایک بہت بڑے مسئلہ کا حل کیا گیا ہے اور یہ آیت اُس مسئلہ کے بارے میں بطور نصّ واقعہ ہوئی ہے۔مسیحی مصنّفین ہمیشہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ قرآن کریم کا دعویٰ ( جہاں تک ایمان کا سوال ہے) صرف غیر اہل کتاب سے متعلق ہے اور وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہود کی نسبت آتا ہے۔وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ ( المائدۃ:۴۵) جو شخص اُس کلام کے مطابق حکم نہیں دیتا جو خدا تعالیٰ نے اُتارا ہے وہ کافر ہے۔اور مسیحیوں کی نسبت فرماتا ہے وَ لْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِيْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(المائدۃ:۴۸) اِن آیات سے وہ استدال کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن کریم نے یہودیوں اور عیسائیوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ وہ اپنی کتابوں پر عمل کیوں نہیں کرتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک تورات اور انجیل اب تک قابلِ عمل ہیں اور جب تورات اور انجیل اب تک قابلِ عمل ہیں تو معلوم ہوا کہ کم سے کم اہلِ کتاب کے لئے تو یہ ضروری نہیں کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں۔پس وہ کہتے ہیں کہ ہمیں قرآن کریم کے دعویٰ پر غور کرنے کی ضرورت نہیں اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹا ہی ہے اور اگر سچا ہے تو ہمیں ماننے کا پابند نہیں کرتا اور جب ہم اس کو ماننے کے پابند نہیں تو ہمیں اس پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت کیا؟ (The Coran by William Muir Page 204,205) اِس کے جواب میں مسلمانوں کی طرف سے یہ آیات پیش کی جاتی ہیں۔