تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 390
اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے ہر انسان کو ایک ایک علقہ سے پیدا کیا ہے۔تفسیر۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ خُلِقَ مِنْ فُلَانٍ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ امر فلاں شخص کی طبیعت میں داخل ہے(تفسیر البغوی المسمی معالم التنزیل بغوی سورۃ الانبیاء زیر آیت خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ)۔قرآن کریم نے بعض اور مقامات پر اس محاورہ کو استعمال کیا ہے۔مثلاً ایک مقام پر فرماتا ہے اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُعْفٍ (الروم: ۵۵) اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ضعف سے پید اکیا ہے۔اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ ضعف کوئی مادہ ہے جس سے انسان پیدا کیا گیا ہے۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسانی فطرت میں ضعف پایا جاتا ہے۔یا مثلاً آتا ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الانبیاء: ۳۸) انسان عجلت سے پیدا کیا گیا ہے۔اس کا بھی یہ مطلب نہیں کہ جلد بازی کوئی مادہ ہے جس سے انسان کوبنایاگیا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی کا مادہ بھی ہے۔اسی طرح یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے علق سے پیدا کیا ہے یعنی انسان کو فطرتاً اللہ تعالیٰ نے ایسابنایا ہے کہ اس میں علق پایا جاتا ہے۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ سے یہ مراد کہ انسان کے اندر جذبات محبت رکھے گئے ہیں عَلَقٌ کے ایک معنے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے محبت کے بھی ہوتے ہیں اور دشمنی اور عداوت کے بھی ہوتے ہیں۔پس خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ کے معنے یہ ہوئے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جذبات کا ایک طوفان پیدا کیا ہے اس کے اندر محبت بھی پیدا کی ہے اور اس کے اندر نفرت بھی پیدا کی ہے۔انہی دو فطری مادوں کو پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم انسانی فطرت کو دیکھ لو تم پر یہ حقیقت روشن ہوگی کہ ہم نے جذباتِ محبت اور جذباتِ نفرت دونوں اس میں پیدا کئے ہیں اور جب ہم نے اس میں جذبات محبت بھی پیدا کئے ہیں اور جذبات نفرت بھی تو ضروری تھا کہ یہ جذبات ایک دن اپنی تکمیل کو پہنچتے۔یہ امر ظاہر ہے کہ انسان جذبات کے ادھورے ظہور پر قانع نہیں ہوسکتا۔بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر جو جذبات بھی پائے جاتے ہیں ان کا مکمل ظہور ہو۔وہ فطرت کی پیاس بجھانے اور اپنے جذبات کی سیری کے لئے ایک تکمیل کی احتیاج محسوس کرتا ہے اور اس بات کے لئے بے تاب رہتا ہے کہ اس کا ہر فطری جذبہ اپنی کامل صورت میں رونما ہو اور صانع فطرت نے جس غرض کے لئے انسان کو مختلف جذبات میں ڈھالا ہے وہ غرض اسے حاصل ہو۔انسان کی اس طبعی اور فطری خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کرو جب اللہ تعالیٰ نے پیدائش انسانی کے ساتھ ہی اس کی فطرت میں جذبۂ محبت بھی رکھ دیا تھا اور جذبۂ نفرت بھی تو جب تک ان دونوں جذبات کی تکمیل نہ ہوجاتی، جب تک ایسا انسان دنیا میں پیدا نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ سے اتنی محبت کرتا کہ اس سے بڑھ کر اور کسی سے محبت نہ