تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 386
پیدائش انسانی کا آخری نقطہ ابراہیمؑ کی نسل میں سے ہوگا اور اس کا نشان یہ ہوگاکہ وہ ایک عالمگیر مذہب کا بانی ہوگا اور دنیا کی ساری قوموں کو دعوت حقہ دے گا۔پس مسیحؑ نے اگر ساری قوموں کو دعوت دے بھی دی ہے تب بھی ابراہیمی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیونکہ ابراہیمی پیشگوئی کا تعلق اس شخص سے ہے جو ابراہیمؑ کی نسل میں سے ہو۔لیکن اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ گو حضرت مسیحؑ کا کوئی باپ نہیں تھا مگر تھے وہ ابراہیمؑ ہی کی نسل سے۔تب بھی ہم کہتے ہیں کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔کیونکہ مسیحی مذہب عالمگیر نہیں۔چنانچہ حضرت مسیحؑ خود اپنی نسبت فرماتے ہیں۔’’ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوئوں کو ڈھونڈ کے بچائے‘‘۔(متی باب ۱۸ آیت ۱۱) یعنی مسیحؑ کی آمد کی غرض صرف اتنی تھی کہ بنی اسرائیل جو بخت نصر کے زمانہ میں منتشر ہو کر افغانستان اور کشمیر وغیرہ علا قوں میں پھیل گئے تھے ان کو اکٹھا کریں۔پس ان کا پیغام کسی اور کے لئے نہیں تھا صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لیے تھا۔دوسرے تورات خود مسیحیوں کے نزدیک یہود کے لئے ہے اور عیسائی اس بات پر متفق ہیں کہ تورات غیر قوموں کے لئے نہیں تھی صرف یہود کے لئے تھی۔دوسری طرف انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے نزدیک تورات منسوخ نہیں تھی چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔’’ یہ خیال مت کرو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتاب کو منسوخ کرنے کو آیا۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہر گز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو ‘‘۔(متی باب۵ آیت۱۷،۱۸) اس جگہ حضرت مسیحؑ صاف طور پر فرماتے ہیں کہ میں تورات کو منسوخ کرنے کے لئے نہیں آیا۔جب وہ منسوخ کرنے کے لیے نہیں آئے تو معلوم ہوا کہ زمانہ مسیحؑ میں تورات قائم رہی تھی اور جب وہ قائم رہی جیسا کہ عیسائی بھی مانتے ہیں تو چونکہ تورات ساری دنیا کے لئے نہیں تھی بلکہ صرف یہود کے لیے تھی اس لیے معلوم ہوا کہ حضرت مسیحؑ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ نہیں تھے۔پھرحضرت مسیحؑ نے جب اپنے بارہ حواریوں کو تبلیغ کے لیے بھیجا تو انہیں یہ ہدایت دی کہ ’’غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ پہلے اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جائو اور چلتے ہوئے منادی کرو اور کہو کہ آسمان کی بادشاہت نزدیک آگئی‘‘۔(متی باب۱۰آیت۶،۷)