تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 376

چاہیے(ستیارتھ پرکاش از چموپتی ایم۔اے صفحہ ۲۰۱ تا ۲۰۴)۔اس کے مقابل میں بعض اور لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ بے شک انسان کو اس کا مقصد حاصل ہوا مگر وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مقصد انبیاء کے ذریعہ بتدریج انسان کو حاصل ہوا ہے۔جیسے یہودی کہ وہ کہتے ہیں پہلے آدمؑ آئے پھر نوحؑ آئے پھر ابراہیمؑ آئے پھر اسحاقؑ آئے پھر اسماعیلؑ آئے پھر یعقوب آئے پھر یوسفؑ آئے پھر موسٰی آئے پھر اور انبیاء آئے یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وحی الٰہی کا یہ سلسلہ ملاکی نبی تک پہنچا اور اس کے بعد وحی الٰہی کا یہ سلسلہ بند ہوگیا۔یہود کے اس عقیدہ پر اگر غور کیا جائے تو کسی چیز کا جو انتہائی نقطہ ہوتا ہے وہ نہ موسٰی میں نظر آتا ہے اور نہ ملاکی نبی میں۔کیونکہ موسٰی خود اپنے کسی مقام کو آخری مقام قرار نہیں دیتے جیسا کہ آگے بتایا جائے گا اور ملاکی کو تو یہود بھی موسٰی سے بڑا قرار نہیں دیتے۔پھر سوال یہ ہے کہ پیدائش انسانی کا جو آخری نقطہ تھا وہ کہاں گیا۔کیا اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ اس مقصد کو بھول گیا جس کے ماتحت اس نے بنی نوع انسان کو پید اکیاتھا۔پیدائش انسانی کا مقصود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدائش انسانی کا آخری نقطہ ہیں لیکن یہ بات بھی دو طرح بالبداہت باطل ہے۔اوّل تو اس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ انسان کے بیٹے نہیں تھے بلکہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے۔(یوحنا باب ۱ آیت ۴۹) جب وہ آدم کے بیٹے ہی نہیں تھے تو پیدائش انسانی کا آخری نقطہ کس طرح ہوگئے؟ یہاں سوال تو آدم کے بیٹوں کے متعلق ہے کہ ان میں سے کون پیدائش انسانی کا اصل مقصود ہے۔اللہ تعالیٰ کے بیٹے کا تو یہاں کوئی سوال ہی نہیں۔پس جبکہ یہاں نسل آدمؑ کی پیدائش کا سوال ہے تو ہمیں بہرحال آدمؑ کی نسل میں سے ہی کسی ایسے شخص کا پتہ لگانا پڑے گا جو پیدائش انسانی کا مقصود ہو۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کسی چیز کا انتہائی نقطہ اس کے آخری سرے کا نام ہوتا ہے مثلاً ایک لکیر کھینچی گئی ہو تو اس لکیر کا جو آخری سرا ہوگا وہ اس کا آخری نقطہ قرار دیا جائے گا۔لیکن جب ہم مسیحؑ کے متعلق غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آخری نقطہ کسی صورت میں بھی قرار نہیں دیئے جاسکتے کیونکہ وہ اس خط کا آخری سرا ثابت نہیں ہوتے جو آدمؑ سے شروع ہوا تھا۔آدمؑ نے شریعت کی بنیاد رکھی تھی۔نوحؑ نے اس میں اضافہ کیا۔ابراہیمؑ آئے تو انہوں نے اور زیادتی کی، موسٰی آئے تو انہوں نے اور زیادہ شریعت کو مکمل طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔غرض شریعت کا ایک دور ہے جو آدمؑ سے شروع ہوا اور اس میں زمانہ کے ارتقاء کے ساتھ اضافہ ہوتا چلا گیا۔پس پیدائش انسانی کا آخری نقطہ وہی ہوسکتا ہے جو پہلی شریعت پر زیادتی کرے۔وہ کس طرح ہوسکتا ہے جو شریعت کو لعنت قرار دے کر اس سے دور