تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 375
مخلوق کو پیدا کیا ہے یعنی اس کی اس صفت کو جو پیدائش عالم کا موجب ہے اپنی مدد کے لئے بلا اور اس سے کہہ کہ یَا رَبِّ الَّذِیْ خَلَقْتَ الْـخَلْقَ۔اے میرے رب اگر تو نے مخلوق کو اس کمال کے لئے پیدا کیا ہے جس کے ظہور کا مجھ سے واسطہ ہے تو پھر اس مقصد کو پورا کر جس کے لئے تو نے مجھے دنیا میں کھڑا کیا ہے۔گویا علاوہ پبلک میںاپنی رسالت کاملہ کا اعلان کرنے کے اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی ہدایت دیتا ہے کہ جب تو ہم سے اپنی ترقی کے لئے دعا مانگنے لگے توہمیشہ اس طرح مانگ کہ اے خدا جس نے تمام مخلوق کو اس دن کے لئے پید اکیا تھا میں تجھے تیری اس صفت خلق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ جب اس دن کے لئے تونے ساری دنیا کو پیدا کیا تھا اور اس قدر دیر سے تیرا یہ ارادہ تھا جو اب پورا ہونے لگا ہے تو اب اس وقت میری خاص مدد فرما اور میرے اعلانِ نبوت میں برکت ڈال۔غرض اِدھر پبلک میں یہ اعلان کر کہ جس مقصد کے لئے مجھے بھیجا گیا ہے وہ معمولی نہیں بلکہ جس دن سے دنیا پیدا ہوئی ہے اسی دن سے یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے مدنظر تھا۔اُدھر خدا سے یہ دعا مانگ کہ جس مقصد کے لئے تو نے مجھے کھڑا کیا ہے اس میں مجھے کامیابی عطا فرما کیونکہ اگر مجھے اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی تو سلسلۂ مخلوق کا مقصد حقیقی باطل ہوجائے گا۔اس لئے میں تجھے اسی صفت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو مخلوق کی پیدائش کا باعث ہوئی کہ تو مجھے کامیاب کر۔مجھے ناکامی سے بچا۔کیونکہ میری ناکامی میں تمام مخلوق کی ناکامی ہے۔اس طرح ایک طرف اللہ تعالیٰ نے اس پیغام کی عظمت کو ظاہر کردیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل ہوا تھا اور دوسری طرف دعا کی قبولیت کا ایک لطیف طریق اس نے آپ کو سکھادیا۔پیدائش انسانی کا مقصود کون سا ہے میں اوپر مضمون میں یہ بیان کرچکا ہوں کہ الَّذِيْ خَلَقَ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسان کو ایک مقصد عظیم کے لئے پیدا کیا گیا تھا مگر وہ مقصد اب تک پورا نہیں ہوا تھا اب اس مقصد کو تیرے ذریعہ سے پورا کیا جارہا ہے۔اس کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ہر شخص جو کسی مذہب کا قائل ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ پیدائش انسانی کسی خاص مقصد کے لئے ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبث پیدا نہیں کیا۔بہرحال کوئی نہ کوئی مقصد تھا جس کے ماتحت انسانی پیدائش عمل میں آئی۔پس جہاں تک مقصد کا سوال ہے مذہبیات سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ اس سے متفق ہیں۔لیکن یہ کہ وہ مقصد کس رنگ میں پورا ہوا اس کے متعلق دنیا میں اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مقصد ابتدائے عالم میں ہی پورا ہوگیا تھا۔وہ کہتے ہیں ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے جو وحی نازل کی وہ تمام ضروریات کے لئے کافی تھی۔یہ عقیدہ آریہ ہندوئوں کا ہے۔یہ لوگ ویدوں کو اپنی الہامی کتاب کہتے ہیں۔ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کامل تعلیم ابتدائے زمانہ میں ہی نازل ہوجانی