تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 361

ظاہر ہوا اور کسی پر کَچھ یا مچھ کی شکل پر ظاہر ہوا اور انسان کی شکل کا وقت نہ آیا جب تک انسان کامل یعنی ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے تو روح القدس بھی آپ پر بوجہ کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قوی تجلی تھی جس نے زمین سے لے کر آسمان کا افق بھر دیا تھا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی۔لیکن چونکہ عیسائی مذہب کے پیشواپر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا تھا یعنی کبوتر کی شکل پر۔اس لئے ناپاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتح یاب ہوگیا۔‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۸۳،۸۴) اس جگہ یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جن کو انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے وہ اس کے رسول کہلاتے ہیں اور رسول دنیا میں دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جن کا کام صرف خط دے دینا ہوتا ہے اس سے زیادہ ان کا کام کچھ نہیں ہوتا۔اور ایک وہ جن کا کام ان احکام کو نافذ کرنا بھی ہوتا ہے۔حضرت مسیح علیہ ا لسلام پر تجلی الٰہی کا کبوتر کی صورت میں نازل ہونا بتاتا ہے کہ مسیحؑ کی حیثیت صرف اس پیغامبر کی تھی جو پیغام سنا دیتا ہے اور اس کا کام ختم ہو جاتا ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تجلی الٰہی کا نزول ایک مرد کامل کی شکل میں ظاہر ہواجس سے اس طرف اشارہ تھا کہ آپ صرف پیغامبر نہ ہوں گے بلکہ ایک کامل نمونہ بھی اپنے مخاطبین کے لئے ہوں گے۔انجیل میں یہ بھی بتایا گیا ہے۔’’ تب یسوع روح کے وسیلے بیابان میں لایا گیا تا کہ شیطان اسے آزمائے اور جب چالیس دن اور چالیس رات روزہ رکھ چکا آخر کو بھوکا ہوا تب آزمائش کرنے والے نے اس پاس آکے کہااگر تو خدا کا بیٹا ہے تو کہہ یہ پتھر روٹی بن جائیں اس نے جواب میں کہا لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ ہر اک بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے جیتا ہے۔تب شیطان اسے مقدس شہر میں اپنے ساتھ لے گیااور ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کر کے اس سے کہا کہ اگر تو خدا کا بیٹا ہے تواپنے تئیں نیچے گرا دے کیونکہ لکھا ہے کہ وہ تیرے لئے اپنے فرشتوں کو فرمائے گا اور وے تجھے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے ایسا نہ ہو کہ تیرے پائوں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔یسوع نے اس سے کہا یہ بھی لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو مت آزما۔پھر شیطان اسے ایک بڑے اونچے پہاڑ پر لے گیا اور دنیا کی ساری بادشاہتیں اور ان کی شان وشوکت اسے دکھائیں اور اس سے کہا اگر تو گر کے مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دوں گا۔