تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 360
اور میں تیری اور اس کی بات کے ساتھ ہوں گا اور تم جو کچھ کرو گے تم کو بتائوں گا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴، ۱۵) غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدء وحی پر عیسائیوں کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں وہ تمام کے تمام اعتراضات اس وحی پر بھی واقعہ ہوتے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوئی۔ہم تو عیسائیوں کے اعتراضات کو درست تسلیم نہیں کرتے اور ان کے جوابات بھی اوپر درج کئے جاچکے ہیں لیکن پھر بھی الزامی رنگ میں ہم عیسائیوں سے کہتے ہیں اگر تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ اعتراض ہے کہ وحی کے متعلق آپؐنے تردّد کا اظہار فرمایا تو یہ اعتراض بدرجۂ اتم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وارد ہوتا ہے اور وارد بھی ایسی صورت میں ہوتا ہے کہ اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔حضرت عیسٰیؑ کی بدء الوحی کا مقابلہ آنحضرت صلعم کی بدء الوحی سے اس کے بعد ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی بدء وحی کے واقعات کو دیکھتے ہیں۔متی باب ۳ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام یوحنا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ مجھے بپتسمہ دو پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر آخر مان لیا اور حضرت مسیحؑ نے یوحنا سے بپتسمہ پایا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کے متعلق انجیل کہتی ہے۔’’ اور یسوع بپتسمہ پا کے وہیں پانی سے نکل کے اوپر آیا اور دیکھو کہ اس کے لئے آسمان کھل گیا اور اس نے خدا کی روح کو کبوتر کی مانند اترتے دیکھا۔اور دیکھو کہ آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔‘‘ (متی باب ۳ آیت۱۶، ۱۷) اس نظارہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدء وحی کے مقابلہ میں رکھواور پھر سوچو کہ کیا ان دونوںواقعات میں کوئی بھی نسبت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام فرشتہ کے ذریعہ بھیجا اور مسیحؑ پر ایک کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا۔کبوتر سے انہوں نے کیا ڈرنا تھا کبوتر تو وہ جانور ہے جس کی ہڈیاں بھی انسان چبا جاتا ہے۔یہی عیسوی اور محمدؐی تجلی کا فرق ہے جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے قرآنی تعلیم کو شرک سے محفوظ رکھا لیکن عیسائیت پر شیطان غالب آگیاکیونکہ عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس ایک نہایت ہی کمزور شکل میں نازل ہواتھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو روح القدس کی تجلی ہوئی تھی وہ ہر ایک تجلی سے بڑھ کر ہے۔روح القدس کبھی کسی نبی پر کبوترکی شکل پر ظاہر ہوا اور کبھی کسی نبی یا اوتار پر گائے کی شکل پر