تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 359

دیکھو کتنا بڑا نشان تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا عصا سانپ بن گیا اور جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سانپ کو پکڑا تو وہ پھر عصا بن گیا۔اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی اڑے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں میری زبان میں فصاحت نہیں۔نہ پہلے فصاحت تھی اور نہ اب تجھے دیکھنے کے بعد میری زبان میں کوئی فرق پیدا ہوا ہے۔یعنی پہلے تو میں بے شک ایک معمولی آدمی تھا مگر میں دیکھتا ہوں کہ تیرے جلال کو دیکھنے کے بعد بھی میری زبان ویسی کی ویسی ہے جس طرح پہلے میری زبان میں لکنت تھی اسی طرح اب ہے جس طرح پہلے غیرفصیح تھا اُسی طرح اب غیر فصیح ہوں۔’’تب خدا نے اسے کہا کہ آدمی کو زبان کس نے دی اور کون گونگا یا بہرا یا بینا یا اندھا کرتا ہے کیا میں نہیں کرتا جو خدا وند ہوں پس اب تو جا اور میں تیری بات کے ساتھ ہوں اور تجھ کو سکھائوں گا جو کچھ تو کہے گا‘‘۔(خروج باب۴ آیت ۱۱،۱۲) اس حکم اور نصیحت کو سن کر بھی موسیٰ علیہ السلام کے طریق میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوئی۔چنانچہ آگے لکھا ہے۔’’تب اس نے کہا کہ اے میرے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں جس کو چاہے تو اس کے وسیلہ سے بھیج‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۳) یعنی میں جانے کے لئے تیار نہیں۔میری جگہ کسی اور کو بھیج دیجئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کے حکم کا بار بار انکار کیا پھر بھی مسیحی علماء کے نزدیک ان کے عظیم الشان نبی ہونے میں کوئی شک پیدا نہیں ہوا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف اتنا کہنے پر کہ نہ معلوم میں اس ذمہ واری کو ادا کرسکوں گا یا نہیں، انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان میں یا عقل میں شبہ نظر آنے لگا حالانکہ موسیٰ کا واقعہ ان کی الہامی کتاب میں مذکور ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فقرہ قرآن کریم میں نہیں بلکہ صرف حدیث میں بیان ہے جو کلام اللہ کے برابر شہادت نہیں ہوسکتا۔تورات میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بار بار خدا تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کیا ’’تب خداوند کا غصہ موسیٰ پر بھڑکا‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۱۴) یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھ کر کہ وہ انکار پر اصرار ہی کئے جاتے ہیں انہیں ڈانٹا۔پھر لکھا ہے۔’’کیا نہیں ہےلاویوں میں سے ہارون تیرا بھائی؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے اور دیکھ کہ وہ بھی تیری ملاقات کو آتا ہے اور تجھے دیکھ کے دل میں خوش ہوگا اور تو اسے کہے گا اور اسے باتیں بتائے گا