تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 350

مہاتما ہیں ان پر اس وقت ایک مقدمہ دائر ہے تم جائو اور اس مقدمہ کی مفت پیروی کرو تاکہ مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے(مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ ۸۶ ایڈیشن ۲۰۰۸ء)۔اب دیکھو ایک شخص ہندو ہے وہ یہ جانتا ہے کہ آپ ہندوئوں سے ہمیشہ مباحثات کرتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ آپ سے محبت رکھتا ہے، آپ سے عقیدت اور اخلاص رکھتا ہے اور اپنے بیٹے کو آپ کے مقدمہ کی مفت پیروی کرنے کا حکم دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ اگر تم نے ایسا کیا تو مرزا صاحب کی برکت سے تمہاری زندگی سنور جائے گی۔اسی طرح گو عیسائیوں سے آپ مباحثے کرتے رہتے تھے مگر ان میں بھی ہم یہ رنگ دیکھتے ہیں کہ باوجود بحث مباحثہ کے وہ آپ سے محبت اور اخلاص رکھتے۔اس کا ثبوت اس واقعہ سے ملتا ہے کہ جن دنوں آپ سیالکوٹ میں ملازم تھے ایک بہت بڑے انگریز پادری سے جس کا نام پادری بٹلر تھا آپ اکثر مباحثات کیا کرتے تھے۔ایک دن وہ پادری کچہری میں آیا اور چونکہ اس زمانہ میںپادریوں کا خاص طور پر احترام کیاجاتا تھا ڈپٹی کمشنر نے سمجھا کہ پادری صاحب مجھ سے ملنے کے لئے آئے ہیں چنانچہ وہ اٹھا، بڑے احترام سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا اور پھر کہا کہ فرمائیے میرے لائق کون سی خدمت ہے۔پادری صاحب نے کہا میں آپ سے ملنے نہیں آیامیں تو مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے آیا ہوں۔میں اب ولایت جارہاہوں اور چونکہ میرے ساتھ ان کے اکثر مباحثات ہوتے رہے ہیں میرے دل میں ان کی بڑی عقیدت ہے۔میں نے چاہا کہ ولایت جانے سے پہلے ان سے آخری ملاقات کرلوں۔چنانچہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جہاں تشریف رکھتے تھے پادری وہیں چلا گیا، فرش پر بیٹھ گیا اور دیر تک آپ سے باتیں کرتا رہا(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۵۰ صفحہ ۱۴۱)۔اب دیکھو ایک انگریز پادری جس سے ملنے میں ڈپٹی کمشنر تک اپنی عزت محسوس کرتا تھا ہندوستان سے رخصت ہونے سے پہلے آپ سے رخصت ہونے کے لئے کچہری گیا جبکہ آپ ایک معمولی کلرکی کا کام کرتے تھے اور جبکہ آپ کی عمر اس پادری کے پوتوں سے زیادہ نہ ہوگی۔پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مسلمانوں کے چوٹی کے علماء میں سے تھے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہین احمدیہ لکھی تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس پر ریویو لکھا۔’’ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبرنہیں۔لَعَلَّ اللہَ یُـحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی، جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت کم پائی گئی ہے‘‘۔(اشاعۃ السنۃ جون تا اگست ۱۸۸۴ ء جلد ۷ نمبر ۶)