تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 340

فرۃ وحی کے وقت آنحضرت صلعم کا اپنے آپ کو پہاڑ سے گرانا ایک کشفی واقعہ ہے باقی رہا یہ کہ آپ نے خودکشی کا ارادہ کیا سو اوّل تو دوسری احادیث سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی لیکن اگر اسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو صاف پتہ لگتا ہے کہ آپ نے جو فعل کیا وہ وحی الٰہی کے رکنے کے بعد کیا۔اگر آپ کے دل میں یہ خیال ہوتا کہ نعوذ باللہ مجھ پر شیطان نے اپنا کلام نازل کیا ہے یا کلام الٰہی کے بارہ میں آپ کو کوئی شبہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ اس وحی کے نزول کے وقت آپ خودکشی کا ارادہ فرماتے۔مگر حدیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ آپ نے فترت کے بعد خود کشی کا ارادہ کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو گھبراہٹ یہ تھی کہ کیا میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوکر مجھ سے بولنا چھوڑ بیٹھا ہے۔اتنا عرصہ گزر گیا اور مجھ پر اس کا کلام نازل نہیں ہوا۔اگر وحی کے متعلق آپ کو شبہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ جب کچھ عرصہ کے لئے وحی کا نزول رک گیا تھا آپ خوش ہوتے اور کہتے الحمدللہ میں ایک بلا سے بچ گیا۔مگر تمام حدیثیں متفقہ طور پر یہ واقعہ بیان کرتی ہیں کہ وحی کے رک جانے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گھبراہٹ پیدا ہوئی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو وحی یا الہامات کی صداقت میں شبہ نہیں تھا۔آپ کو صرف یہ خوف تھا کہ میرے کسی فعل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض نہ ہوگیا ہو۔پس یہ واقعہ بھی وحی الٰہی کے متعلق آپ کے کسی شبہ کو ظاہر نہیں کرتا۔میں اس جگہ یہ بھی ذکر کردینا چاہتا ہوں کہ گو اس واقعہ کی میں نے ایک توجیہ کی ہے اور اس اعتراض کو رد کیا ہے جو یوروپین مصنّفین کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا جاتا ہے۔مگر میرے نزدیک چونکہ صحیح احادیث میں یہ ذکر آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دفعہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانا چاہا اس لئے ہم اس واقعہ سے کلیۃً انکار نہیں کرسکتے۔مگر اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اس واقعہ کے سمجھنے میں سخت غلطی لگی ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ خودکشی کے ارادہ سے پہاڑ پر چڑھ جاتے اور اپنے آپ کو نیچے گرانا چاہتے مگر معاً جبریل آپ کو آواز دیتا کہ آپ ایسا نہ کریں۔آپ واقعہ میں خدا کے رسول ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے اور اپنے گھر میں واپس آجاتے۔لوگ اس واقعہ کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اس طرح خود بھی ٹھوکر کھاتے اور دوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں حالانکہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ کشفی واقعہ ہے۔کشف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یہ دیکھتے تھے کہ میں پہاڑوں پر پھر رہا ہوں اور اپنے آپ کو گرانا چاہتا ہوں مگر فرشتہ مجھے آواز دیتا ہے کہ ایسا مت کریں آپ واقعہ میں خدا تعالیٰ کے رسول ہیں۔