تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 335

نہ ہو تو انسان کو یہ معلوم ہی نہ ہوسکے کہ اس نے جو کچھ دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے یا اس کے نفس کا خیال ہے۔پس بوجہ اس کے کہ وہ حالت کامل نیند کی نہیں ہوتی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ میں نے جاگتے ہوئے ایسا دیکھا اور بوجہ اس کے کہ جاگنے کی حالت پر ایک خاص تصرف کیا جاتا ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند طاری ہوئی اور اس میں یہ یہ دیکھا اور میں نے خود اس کاتجربہ کیا ہے اس لئے مجھے اس میں کوئی اچنبھے کی بات نظر نہیں آتی۔پس یہ مادی نظارہ نہیں تھاجو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا۔مگر بوجہ اس کے کہ آپ کے حواس ظاہری کام کررہے تھے۔ہم اسے یقظہ بھی کہہ سکتے ہیں۔درحقیقت کشف ایک مابین النوم والیقظہ کیفیت کا نام ہے چونکہ وہ حالت کامل نیند کی نہیںہوتی اس لئے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا گیا اور چونکہ جاگنے کی حالت پر خاص تصرف کیا جاتا ہے اس لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نیند کی حالت میں ہم نے ایسا نظارہ دیکھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی موقع پر یہ فرما دیا کہ میںنے جاگتے ہوئے ایسا نظارہ دیکھا تھا اور کسی موقع پر آپ نے یہ فرما دیا ہوگا کہ میں نے نیند کی حالت میں ایسا نظارہ دیکھا۔جو لوگ صاحب کشوف ہیں وہ ہمیشہ ایسے الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں میں یہ نظارہ دیکھ کر جاگ پڑ اور مرا دیہ ہوتی ہے کہ میں ربودگی کی کیفیت سے عام حالت میں آگیا اور کبھی کہتے ہیں میںنے جاگتے ہوئے فلاں نظارہ دیکھا اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے حواس ظاہری بھی اس وقت کام کررہے تھے۔پس یہ دونوں باتیں آپس میں کوئی اختلاف نہیںرکھتیں۔محض کشف کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یوروپین مصنفین کویہ غلطی لگی ہے۔مسند احمد بن حنبل اور بخاری کی حدیث کو یوں بھی حل کیا جاسکتا ہے کہ بعض دفعہ خواب کالفظ نہیںبولا جاتا جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں قرآن کریم حضرت یوسف علیہ السلام کی رئویا کی نسبت فرماتا ہے کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا اِنِّيْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ (یوسف:۵) کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں یہاں خواب کا کوئی لفظ نہیں صرف اتنا ذکر ہے کہ میں نے دیکھا۔مگر اگلی آیت میں ہی حضرت یعقوب علیہ السلام یہ بات سن کر فرماتے ہیں يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ ( یوسف:۶) اے میرے بیٹے تو اس رؤیا کو اپنے بھا ئیوں کے سامنے بیان نہ کیجیئو۔اب دیکھو ایک آیت میں اسے ظاہری نظارہ قرار دیا گیا ہے اور دوسری میں اسے رؤیا قرار دیا گیا ہے پس یہ ایک طریقِ بیان ہے جو عربی زبان میں رائج ہے اس سے کسی اختلاف کا ثبوت نہیں نکل سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں میں الگ الگ محاورات رائج ہوتے ہیں۔عربی زبان میں ایسے نظاروں