تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 330

کیا کہ میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصاحت رکھتا ہے اسے بھی میرے ساتھ بھجوادیجئے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے ما فی الضمیرکو وہاں عمدگی سے بیان نہ کرسکوں اور اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرجائوں(القصص:۳۵)۔یہ تو قرآن کریم کا بیان ہے تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی ہارون کا نام نہیں لیا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا کام ان کے سپردکیا گیا تو انہوں نے کہا ’’اے میرے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں۔جس کو چاہے تو اس کے وسیلہ سے بھیج‘‘۔(خروج باب ۴ آیت ۱۳) یعنی میں اس خدمت کا اہل نہیں کسی اور شخص کو اس عہدہ پر کھڑا کردے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی یہ کام سپرد کردیا۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام جب چالیس دن کے لئے پہاڑ پر گئے تو بعد میں حضرت ہارونؑ بنی اسرائیل کو سنبھال نہ سکے۔باوجود ان کے منع کرنے کے وہ شرک میں مبتلا ہوگئے اور بچھڑے کی پرستش کرنے لگ گئے(الاعراف:۱۴۳تا ۱۵۱)۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتادیا کہ دیکھ لو انتخاب وہی صحیح تھا جو ہم نے کیا۔تم نے اپنے لئے ہارونؑ کا انتخاب کیا تھا مگر ہارون قوم کی نگرانی نہ کرسکا۔بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب نبوت کا کام کسی عظیم الشان انسان کے سپرد کیا جاتا ہے تو طبعی طور پر وہ گھبراتا اور ہچکچاہٹ کا اظہار کرتا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں میں اپنے فرائض کی بجاآوری میں کسی کوتاہی کا مرتکب نہ ہوجائوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں حجاب بھی تھا، انکسار بھی تھا، اپنے اہم فرائض کو دیکھتے ہوئے خوف بھی تھا۔اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے استغناء کا بھی آپ کو احساس تھا اور ادب کی وجہ سے آپ یہ کہنا بھی مناسب نہ سمجھتے تھے کہ میری جگہ کسی اور کو مقرر کردیں میں اس کام کے قابل نہیں۔ان وجوہ کی بنا ء پر جیسے تجاہل عارفانہ کے طور پر کوئی بات کہہ دی جاتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھنا نہیں جانتا۔حالانکہ اس وقت آپ کو پڑھنے کے لئے نہیں کہا گیا تھا۔درحقیقت یہ ایک ادب کا طریق تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے اختیار فرمایا۔آپ نے سمجھا کہ براہ راست انکار کرنا تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی ہوگی اور اگر میں نے کہا کہ میں اس کام کے قابل نہیں تو یہ بھی ادب کے خلاف ہوگا اس لئے میں کوئی اور رنگ اختیار کروں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رنگ اختیار کیا کہ آپ نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِیءٍ میں تو پڑھے لکھے آدمیوں میں سے نہیں ہوں۔میں نے کیا کام کرنا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ خود فرشتہ نے بھی آخر میں