تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 319

سے ہے اور اس کے معنے جھٹلانے کے نہیں بلکہ اپنے آپ کو جھوٹا اور کاذب بنانے کے ہیں۔عام طور پر ان معنوں کو قبول کیا گیا ہے۔مگر یہ درست معلوم نہیں ہوتے۔یہاں خطاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور قاضی اور فراء کا یہی قول ہے اور مراد یہ ہے کہ جزا سزا کے متعلق اب تیری کون تکذیب کرسکتا ہے۔(فتح البیان زیر آیت فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ) فَمَا يُكَذِّبُكَ میں مَا کے معنے یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ مَا اپنے معروف معنوں کے سوا کبھی مصدریہ ہوتا ہے اور کبھی مَنْ کے معنے بھی دیتا ہے یہاں مصدری معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ یا تو اپنے معروف معنوں میں یعنی غیرذوی الا رواح کے لئے استعمال ہوا ہے یا مَنْکے معنوں میں استعمال ہوا ہے(منجد)۔اگر یہاں مَا کا استعمال غیر ذی روح کے لئے سمجھا جائے تو فَمَا يُكَذِّبُكَ کے معنے ہوں گے وہ کون سی چیز ہے جو تجھے جھٹلاتی ہے اور اگر مَا کو مَنْ کے معنوں میں سمجھا جائے تو فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ کے معنے ہوں گے وہ کون سا شخص ہے جو تجھے جھٹلاتا ہے۔فَمَا يُكَذِّبُكَ کے چھ معنے اس دلیل کے بعد اور بِالدِّيْنِ کے معنے ہوں گے دین یا جزا سزا کے متعلق (با کے معنے اس صورت میں فِیْ کے کئے جائیں گے )یا دین کے ذریعہ سے یعنی یہ تین مثالیں جو اوپر پیش کی جا چکی ہیں کہ آدمؑ آئے شیطان نے ان کا مقابلہ کیا اور اس نے سمجھا کہ میں آدمؑ کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائوں گا مگر آخر شیطان نے ہی شکست کھائی اور آدم ؑکامیاب وبامراد ہوا۔پھر نوحؑ آئے دشمن نے ان کا مقا بلہ کیا ان کو ناکام کرنے کے لئے اس نے پورا زور لگایا اور سمجھا کہ میں نوحؑکو شکست دینے میں کا میاب ہو جائوں گا مگر آخر نوحؑہی کامیاب ہوئے اور ان کا دشمن ناکامی کی حالت میں تباہ ہو گیا۔اس کے بعد موسٰی آئے ان کے مقابل میں بھی دشمن اپنے لشکر سمیت اٹھا اور اس نے موسٰی کو ناکام کرنے کے لئے پورا زور لگایا مگر آخر موسٰی ہی کا میاب ہوئے اور دشمن نا کام ہوا۔ان تین مثالوں کے بعد تیرے دشمن کس دلیل کی بنا پر تجھے جھٹلا سکتے ہیں اور کون سی بات ہے جو وہ تیرے خلاف پیش کر سکتے ہیں۔وہ کہیں گے کہ تو کمزور اور نا تواں ہے تو ہمارے مقا بلہ میں کا میاب نہیں ہو سکتا مگر کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آدمؑ بھی کمزور تھا۔نوحؑبھی کمزور تھا۔موسٰی بھی کمزور تھا۔اور ان کے متعلق بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ کا میاب نہیں ہوں گے پھر اگر وہ اپنی کمزوری کے با وجود کا میاب ہو گئے تو تو کمزور ہونے کے باوجود ان پر کیوں غالب نہیں آسکتا۔وہ کہیں گے تو نہتہ ہے اس لئے ہمارے مقابلہ میں تو جیت نہیں سکتا۔مگر وہ اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ آدم بھی نہتہ تھا۔نوح بھی نہتہ تھا، موسیٰ بھی نہتہ تھا۔پس وہ اگر نہتے ہو کر دنیا پر غالب آگئے تو تُو نہتہ ہو کر کیوں دنیا پر