تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 315

اور ادنیٰ حالت کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ ہُ ضمیر کا حال واقع ہوا ہو یعنی ذوالحال فاعل نہ ہو بلکہ مفعول ذوا لحال ہو۔اس صورت میں آیت کے یہ معنے ہو ں گے کہ پھر انسان کو ہم نے اپنے دروازہ سے لوٹایااس حال میں کہ وہ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ تھا۔ان معنوں کے لحاظ سے وہ اعتراض واقع نہیں ہو سکتا جو پہلے معنوںپر عائدہوتا ہے اور ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ کا یہ مفہوم ہوگا کہ ہم انسان کو اس کے مقام سے ہٹا دیتے ہیں ایسے حال میں کہ وہ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ ہوتا ہے۔یعنی جب وہ گنہگار ہو کر ہماری نظروں سے گر جاتا ہے تو ہم اسے اپنے دربار سے واپس کردیتے ہیں۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ کے معنے فردی اور اجتماعی لحاظ سے اس آیت کے ایک معنے فردی لحاظ سے ہیں اور ایک معنے اجتماعی لحاظ سے۔اجتماعی لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ ہدایت پہلے ہے اور ضلالت بعد میں آتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ پہلے ہم انسان کے لئے اس کی ہدایت کے سامان مہیا کرتے ہیں بعدمیں بگڑ کر وہ ضلالت اور گمراہی کی راہیں اختیار کرلیتا ہے۔یہی اسلام اور ارتقائیوں کا مابہ الاختلاف ہے۔ارتقائی لوگ ضلالت کو پہلے بتا کر پھر ارتقائی طور پر مذہب کو پیش کرتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کہتا ہے کہ جب انسان نے عقل کامل حاصل کی تو اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو بھجوایا۔پھر بگڑ گئے تو نوحؑکو بھجوایا۔پھر بگڑے تو موسٰی کو، اب پھر بگڑے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔گویا ابتداء میں احسن تقویم کانمونہ ہوتا ہے اور بگاڑ ہمیشہ بعد میں آتا ہے۔پس جن معنوں میں ارتقاء کو فلسفی پیش کرتے ہیں وہ غلط ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ پہلے مظاہرہ تین پھر زیتون پھر طور اور پھر بلد الامین ہوا اور اس طرح ہر مظاہرہ نیکی کا پہلے سے بڑا تھا۔یہ ارتقاء درست ہے مگر یہ کہ پہلے ضلالت تھی پھر ترقی کرکے ہدایت آئی یہ غلط اور سراسر غلط ہے۔یوروپین فلسفی مسئلہ ارتقاء کو اس رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا خیال قوموں میں آہستہ آہستہ پیدا ہوا ہے۔سب سے پہلے مختلف اقوام میں ان اشیاء کی پرستش شروع ہوئی ہے جن سے انسان خائف ہوا۔جس طرح ایک بچہ ڈر کر لجاجت اور گریہ زاری شروع کردیتا ہے اسی طرح جب انسان بعض چیزوں سے مرعوب ہوا تو اس نے ان کی پرستش شروع کردی۔اس نے دیکھا کہ آسمان سے بجلی گری ہے اور اس سے چند آدمی ہلاک ہوگئے ہیں وہ ڈرا اور اس نے سمجھا کہ یہ ڈرنے کی چیز ہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔پھر اس نے سانپ کو دیکھا کہ اس کے ڈسنے سے فلاں شخص مرگیا ہے تو اسے خیال پیدا ہوا کہ یہ ڈرنے کی چیز ہے اور اس کی عبادت شروع کردی۔پھر اس نے