تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 314

سب اسی لئے آئے کہ گرے ہوئے لوگوں کو اٹھا کر آستانہء الوہیئت پر پہنچا دیں بے شک بنی نوع انسان اپنی قوتوں کا غلط استعمال کر کے بعض دفعہ خدا تعالیٰ سے دور جا پڑ تے ہیں اور وہ ہوا وہوس کی اتباع کر کے شیطان کے غلام بن جاتے ہیں مگر انبیاء ان کی تربیت کر کے پھر ان کو خدا تک پہنچاتے ہیں پھر ان کے قلوب کو صیقل کرتے ہیں اور پھر ان کی استعدادوں کو ابھار کر انہیں صفات الٰہیہ کا مظہر بنا دیتے ہیں۔ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَۙ۰۰۶ پھر ہم نے اس کو ادنیٰ درجوں سے (بھی) بد تر درجہ کی طرف لوٹادیا۔تفسیر۔رَدَدْنٰهُ میں ضمیر خدا تعالیٰ کی طرف پھرتی ہے اور یہ اس امر کے ا ظہار کے لئے کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ بدکار کو بطور سزا کے اس کے مقام سے گرا دیتا ہے یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے بدی کروا تا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے کہ آدم کو جنت میں سے ہم نے نکالا(البقرۃ:۳۹)۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ آدم کو جنت میں سے شیطان نے نکالا۔چنانچہ فرماتا ہے يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ (الاعراف:۲۸) یہ ظاہر ہے کہ آدم ؑکو جنت میں سے شیطان کانکالنا اور آدمؑ کو جنت میں سے اللہ تعالیٰ کا نکالنا ایک معنوں میں نہیں آسکتا۔بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا نکالنا اور رنگ رکھتا ہے اور شیطان کا نکالنا اوررنگ رکھتا ہے اور ان دونوں میں کوئی نہ کوئی فرق پایا جاتا ہے۔وہ فرق یہی ہے کہ شیطان چونکہ اس غلطی کا باعث بنا تھا جس کے نتیجہ میں آدمؑ کو جنت میں سے نکلنا پڑا اس لئے شیطان کےمتعلق یہ کہا گیا کہ اس نے آدمؑ کو جنت میں سے نکالا تھا۔لیکن چونکہ نتیجہ خدا نے پیدا کیا تھا اس لئے دوسرے مقام پر یہ کہہ دیا گیا کہ آدمؑ کو خدا تعالیٰ نے جنت میں سے نکالا تھا۔گویا شیطان کا نکالنا بلحاظ فعل بد کے ہے اور اللہ تعالیٰ کا نکالنا بلحاظ اس سزا کے ہے جو اس فعل کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوئی اسی طرح رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ کے یہ معنے نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو بگاڑتا ہے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب انسان بگڑتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سزا کے طور پر اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ میں بھیج دیتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیںفرمایا کہ ثُمَّ رَدَدْنَاہُ سَارِقًا یا ثُمَّ رَدَدْنَاہُ قَاتِلًا یا ثُمَّ رَدَدْنَاہُ مُذْنِبًا بلکہ فر مایا ہے ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ پھر ہم اس کو ادنیٰ ترین جگہ کی طرف لے جاتے ہیں وہ ایک جرم کرتا ہے ہم اُسے اس کی سزا دیتے ہیں وہ پھر جرم کرتا ہے ہم اسے پھر سزا دیتے ہیں اور اس طرح اسے ذلیل