تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 313
میں پیدا نہیں ہوتے۔نواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو حکومتیں شکار کی حفاظت کی تدابیر کیوں کرتی ہیں؟انہیںتو چاہیے تھا کہ بجائے اس کے کہ شکار کی حفاظت کے ذرائع اختیار کرتیں لوگوں کو خاص خاص گناہوں کا حکم دے دیتیں۔مثلاً کہا جاتا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ آج کل فلاں فلاں گناہ کریں کیونکہ بٹیر کم ہو گئے ہیں یا فلاں فلاں گناہ کریں کیونکہ تیتر کم ہو گئے ہیں کیونکہ تناسخ کے ماتحت بعض خاص قسم کے گناہ ہی ان کی پیدائش کا باعث بن سکتے ہیں۔کسی اور ذریعہ سے ان میں زیادتی نہیں ہو سکتی۔دسواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو اوّل تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔جس شخص کے متعلق خدا نے یہ کہا ہے کہ اسے چالیس سال تک دنیا میں رکھا جائے کوئی شخص اسے تیس۳۰ یا پینتیس۳۵ سال کی عمر میں ہلاک کس طرح کر سکتا ہے؟ بے شک وہ اپنی طرف سے اس کی گردن پر تلوار کا وار کر ے پھر بھی جب خدا نے اسے چالیس سال کے لئے دنیا میں بھیجا ہے وہ اس سے قبل دنیا کے قید خانہ سے رہا نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی شخص دوسرے کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتاہے تو اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اس نے خدا تعالیٰ کے منشااور اس کے حکم کے ماتحت دوسرے کو قید سے آزاد کیا ہے۔اس صورت میں اسے قتل کی سزا دینا بالکل غیر معقول بات ہے اسے تو پھولوں کے ہارپہنانے چاہئیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کر دیا۔جیسے جلادجب کسی کو پھانسی دیتا ہے تو وہ زیر الزام نہیں آتا کیونکہ وہ افسر کے حکم کے مطابق پھانسی دیتا ہے اپنی مرضی سے نہیں دیتا۔اسی طرح جس کو خدا نے قید کیا ہے اوّل تو اسے آزاد کرنے کی کسی میں طاقت نہیں ہو سکتی اور اگر کسی نے آزاد کر دیا ہے تو یقیناً اس نے خدا تعالیٰ کے منشاء سے کیا ہے ایسی صورت میں اسے سزا کیوں ملے پھر تو قاتل کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے چاہئیں کہ اس نے ایک شخص کو قید خانہ سے الٰہی مشیئت کے ماتحت رہا کر دیا۔غرض یہ عقیدہ بھی بدھوں کے عقیدہ کی طرح عقل کے با لکل خلاف ہے۔اصل حقیقت وہی ہے جو قرآن کریم نے بتائی ہے کہ انسان کو معتدل القویٰ پیدا کیا گیا ہے اس میں کوئی خاصیت ایسی نہیں جسے خالص طور پر برا کہا جا سکے اور کوئی طاقت ایسی نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ وہ خالص طور پر نیکی کے لئے ہی استعمال ہوسکتی ہے۔معتدل القویٰ ہونے کے معنے درحقیقت یہی ہیں کہ بعض حالات میں وہ بدی کی طرف چلا جاتا ہے اور بعض حالات میں نیکی کی طرف چلا جاتا ہے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ جب انسان بدی کی طرف بھی جا سکتا ہے تو انسان کو احسن تقویم میں پیدا کرنے کا فائدہ کیا ہوا؟اس کا جواب یہ ہے کہ اسی غرض کے لئے تو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء بھیجتا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے شریعت کا نزول کرتا ہے۔جیسے آدم ؑاور نوحؑاور موسٰی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم