تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 312

اور بھینسوں اور گھوڑوں اور بیلوں کی احتیاج کو تسلیم کریں گویا اس عقیدہ کے ماتحت نیک لوگ بھی اس دنیا میں گناہ کے بغیر گذر اوقات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ارواح جو مختلف جونوں کی شکل میں اس دنیا میں آئی ہوئی ہیں عقیدہ تناسخ کے ماتحت انہیں سے دنیا چل رہی ہے۔اس ضمن میں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو انسان پہلی دفعہ پیدا ہوئے تھے وہ کیا کھاتے تھے اور پینے کے لئے کیا چیز استعمال کرتے تھے۔یہ امر ظاہر ہے کہ علم نباتات کے متعلق موجودہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ گیہوں اور سبزیاںوغیرہ اپنے اندر حس رکھتی ہیں جس کے دوسرے یہ معنے ہیں کہ قائلین تناسخ کے نزدیک ان میں بھی جیو ہے اور جب تمام جیو والی اشیاء کی پیدائش قائلین تناسخ کے نزدیک گناہوں کی وجہ سے ہے تو طبعی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے انسان کیا کھاتے تھے؟ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سوال تو یہ ہے کہ پانی کو پانی اور ہوا کو ہوا خدا تعالیٰ نے کیوں بنایاہے؟ یہ فرق کرنا اس کے لئے کس طرح جائز ہو گیا ہے پس پانی بھی درحقیقت کسی سزا میں پانی بنا ہے اور ہوا بھی کسی سزا میں ہوا بنی ہے اور اگر یہ امر درست ہے تو سوال یہ ہے کہ جب پہلی دفعہ انسان پیدا ہوا تھا اور ابھی کرموں کے نتائج ظاہر نہیں ہوئے تھے اس وقت انسان کیا پیتے تھے اور کس چیز کی مدد سے سانس لیتے تھے؟یہ بھی ایک ایسا سوال ہے جس کا قائلین تناسخ کے پاس کوئی جواب نہیں۔آٹھواں سوال یہ ہے کہ اگر گائیںبھینسیں گناہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں تو علم الحیوانات کے ماہرین کی تجاویز جانوروں کی ترقی کی نسبت کیوں کامیاب ہوتی ہیں؟کیا گائیں بھینسیں اگر اس محکمہ کی نگرانی میں رہیں تو لوگ اس قسم کے گناہ زیادہ کرنے لگ جاتے ہیں جن سے یہ جانور زیادہ پیدا ہوں؟ تھوڑا ہی عرصہ ہوا گورنمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ گذشتہ چھبیس۲۶سال میں ہندوستان کی گائیں بھینسیںآدھی رہ گئی ہیں ان کی تعداد بڑھانے کے لئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ جانور پالنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اس کمی کا ازالہ ہو۔اس اعلان پر ہندوئوں کو چاہیے تھا کہ گورنمنٹ کو نو ٹس دے دیتے کہ جانور بڑھانے کا یہ طریق بالکل غلط ہے۔گائیں بھینسیںفلاں فلاں گناہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں۔اگر گورنمنٹ ان کی تعداد کو بڑ ھانا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ ملک میں ان گناہوں کو رائج کر دے گائیں بھینسیں خود بخود زیادہ ہو جائیں گی۔مگر نہ ہندوئوں نے گورنمنٹ کو اس وقت کوئی ایسا نوٹس دیا اور نہ وہ آئندہ دینے کے لئے کبھی تیار ہوسکتے ہیں۔جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ علم حیوانات کی تجاویز پر اگر عمل کیا جائے تو جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جب محض بعض مادی تدابیر پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ان کی تعداد بڑ ھ سکتی ہے تو یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ وہ کسی گناہ کے نتیجہ