تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 311
غرض ہندوئوں کا یہ عمل کہ وہ وبائوں اور زلزلوں سے بچنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کے نزدیک یہ زندگی ایک قید نہیںجس سے آزاد ہونے کی کوشش ہونی چاہیے بلکہ یہ نیکی کمانے کا ذریعہ ہے جسے لمبا کرنا نیک کام ہے۔چھٹا سوال یہ ہے کہ برسات میں بعض دفعہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر کروڑوں کیڑے مکوڑے کیوں پیدا ہو جاتے ہیں اور اس وقت کون سے گناہ خاص طور پر زائد ہو جاتے ہیں؟ میں سمجھتا ہوں ایک ایک گائوں اور ایک ایک شہر میں برسات کے موسم میں اربوں ارب کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں پس سوال یہ ہے کہ یہ اربوں ارب کیڑا کس جرم کے نتیجہ میں ایک گھنٹہ بھر میں پیدا کر دیا جاتا ہے اور پھر یہ سزا کیا ہوئی کہ ابھی ان کی زندگی پر ایک گھنٹہ بھی نہیں گذرتا کہ ان میں سے بہت سے کیڑے مر جاتے ہیں گویا اربوں ارب ارواح کو قید میں ڈالا جاتا ہے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہی ان سب کو آزاد کر دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ ان کیڑوں کا آناً فاناً کروڑوں بلکہ اربوں کی تعداد میں پیدا ہوجانا کس گناہ کا نتیجہ ہوتا ہے؟ جو خاص طور پر موسم برسات میں زیادہ ہو جاتاہے اور پھر ان کی تھوڑی دیر کے بعد ہی رہائی کس خوشی کی تقریب میں ہوتی ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی شادی کی تقریب پیدا ہو جاتی ہے؟ کہ اربوں ارب ارواح کو یک دم قید خانہ سے رہا کر دیا جاتا ہے۔ساتواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ کو درست مانا جائے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ تمام کارخانہء عالم نعوذباللہ گناہ پر چل رہا ہے کیونکہ تناسخ کے قائلین کہتے ہیں کہ دنیا میں جانوروں کی پیدائش گناہ کی وجہ سے ہے۔کسی گناہ کی وجہ سے انسان بھینس کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے انسان گائے کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے انسان گھوڑے کی جون میں جاتا ہے کسی گناہ کی وجہ سے انسان گدھے کی جون میں جاتاہے(ستیارتھ پرکاش باب ۸ صفحہ ۲۲۱،۲۲۲)۔اسی طرح سبزیاں اور ترکاریاںوغیرہ جو نظر آتی ہیں چونکہ ان میں بھی جیو ہے اس لئے سبزیوں اور ترکاریوں کی جون میں بھی انسان کسی گناہ کی وجہ سے جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ گناہ کی پیدائش ہے تو معلوم ہوا کہ دنیا کا کارخانہ محض گناہوں کے سہارے قائم ہے اگر گناہ کا وجود مٹ جائے تو وہ گائے اور بھینسیں جن کا انسان دودھ پیتا ہے وہ گھوڑے جن پر انسان سواری کرتا ہے وہ سبزیاں اور ترکاریاں جن کو انسان کھانے کے کام میں لاتا ہے سب کی سب معدوم ہو جائیں اورکارخانہء عالم بالکل با طل ہو جائے پھر یہ چیزیں ایسی نہیں جن کو صرف بد لوگ استعمال کرتے ہوں بلکہ نیک لوگ بھی جانوروں کے بغیر گذارہ نہیں کرسکتے وہ بھی اس بات پر مجبور ہیں کہ دودھ پئیں۔گھوڑوں کی سواری کریں فصل کے لئے ہل چلائیں اور اس طرح گائیوں