تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 310

سب کو اکٹھی سزا ملتی ہے۔سزا تو الگ الگ وقت کی ہوتی ہے مگر وبائوں کے نتیجہ میں ایک ہی وقت میں ملکوں کا صفایا ہوجاتا ہے۔اسی طرح اگر تناسخ درست ہے تو جنگوں اور زلزلوں سے کیوں لاکھوں کا صفایا ہو جاتا ہے اور یہ آزادی کس خوشی کی تقریب پر دی جاتی ہے؟دنیا میں تو کہا جاتا ہے آج بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اس خوشی میں سو۱۰۰قیدی چھوڑے جاتے ہیں۔آج شاہی خاندان میں فلاں شادی ہوئی ہے اس خوشی کی تقریب میں اتنے لوگوں کو رہا کیا جاتا ہے۔کیا اسی قسم کی خوشی کی تقاریب اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ہوتی ہیں؟کہ وہ ایک وبا بھیج دیتا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں انسان مر کر دنیا کی تکالیف سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔زلزلہ بھیج دیتا ہے اور اس سے لاکھوں انسان ہلاک ہو جاتے ہیں۔اسی طرح کبھی طاعون، کبھی ہیضہ، کبھی انفلوئنزا اور کبھی ملیریا بھیج دیتا ہے۔گویا یہ وبائیں کیا ہیں انسپکٹرجنرل آف پرزنرز ہیں جو قیدیوں کو رہائی کی خوشخبری دیتی ہیں۔بہرحال اگر تناسخ درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ آزادی کس خوشی کی تقریب پر دی جاتی ہے؟ اور کیوں دنیا میں وبائوں سے کبھی کم آدمی ہلاک ہوتے ہیں اور کبھی زیادہ آدمی ہلاک ہوتے ہیں؟ کیا اس کے یہ معنے سمجھے جائیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی خوشی کی کوئی معمولی تقریب پیدا ہوتی ہے اور کبھی بڑی۔معمولی تقریب میں صرف چند قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا جاتا ہے مگر جب خوشی کی کوئی بہت بڑی تقریب پیدا ہو جائے تو زلزلہ بھیج دیا جاتا ہے یا طاعون نازل کر دی جاتی ہے یا ہیضہ اور ملیریا پیدا کر دیا جاتا ہے اور اس خوشی میں لاکھوں انسانوں کو رہا کر دیا جاتا ہے آخر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہونی چاہیے جس طرح انہوں نے دنیا کے اختلاف کو دیکھ کر ایک توجیہ پیدا کر لی تھی اسی طرح ہمارا حق ہے کہ ہم ان سے پوچھیں کہ طاعون اور ہیضہ اور زلزلہ اور لڑائیوں وغیرہ سے یک دم لاکھوں لوگوں کا صفایا کس بنا پر ہوتا ہے؟ اور کون سی خوشی کی تقریب پر ارواح کی آزادی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے؟ پانچواں سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو ہندو لوگ وبائوں اور زلزلوں سے بچنے کی تدابیر کیوں کرتے ہیں اور کیوں طاعون اور ہیضہ کے ٹیکے کراتے ہیں؟کیونکہ ان کے نزدیک تو یہ جون ایک سزاہے پس طاعون اور ہیضہ تو معافی کا پیغام ہے اس سے بچنے کے تو کوئی معنے ہی نہیں۔کیا کوئی قیدی آزادی کے پروانے سے بچنے کی کوشش کیا کرتا ہے؟ اگر تناسخ ماننے والوں کے پاس کوئی شخص آئے اور ان سے سوال کرے کہ طاعون یا ہیضہ کا ٹیکہ مجھے کروانا چاہیے یا نہیں تو وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ کیا یہ کہتے ہیں کہ تم ٹیکہ مت کروائو۔یہ زندگی تو قید خانہ ہے۔یہ وبائیں تو پرمیشور کی طرف سے آزادی کا پر وانہ ہیں ان کے آنے پر تو تم کو خوش ہونا چاہیے۔یا وہ یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ بے شک ٹیکہ کرائو یہ ایک کامیاب علاج ہے اس سے تم اپنی زندگی کو بچالو گے۔