تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 309
اگر کوئی شخص اپنے گلے میں پتھر باندھ کر دریا میں غرق ہونا چاہے تو اس عقیدہ کے مطابق اسے غرق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا نے اسے چالیس یا پچاس سال تک سزا بھگتنے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے اگر ہمیں یہی نظرآتا ہے کہ جب کوئی شخص خود کشی کے ارادہ سے دریا میں غرق ہونا چاہے تو تناسخ کا عقیدہ اسے غرق ہونے سے نہیں بچاتا وہ خواہ چالیس سال کی قید لے کر دنیا میں آیا ہو زہر کھا کر یا دریا میں غرق ہو کر کئی سال پہلے اس عذاب سے نجات حاصل کر لیتا ہے اسی طرح وہ شخص جو ایک غریب گھرمیں پیدا ہوا ہے اگر اسے اپنے سابق اعمال کی سزا میں ایک غریب شخص کے گھر پیدا کیا گیا ہے تو پھر اسے کبھی امیر نہیں ہونا چاہیے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کئی غریب دنیا میں ترقی کرتے کرتے کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔پنجاب ہندوستان اور ولایت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں جنہوں نے نہایت غربت کی حالت سے ترقی کرتے کرتے اعلیٰ درجہ کی امارت حاصل کر لی۔وہ ادنیٰ حالت سے اٹھے اور ترقی کے اعلیٰ معیار پر جا پہنچے۔پس اگر پچھلے جنم کے اعمال کی سزا بھگتنے کے لئے انسان اس دنیا میں آیا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ زہر سے کیوں مرتا ہے؟ وہ تو ایک خاص مدت کی قید کے لئے آیا تھا۔محنت سے کیوں مالدار ہو جاتا ہے وہ تو سزا کے طور پر ایک غریب شخص کے گھر میں پیدا کیا گیا تھا؟ پھر تو چا ہیے تھا کہ کوئی عمل اس کی حالت کو تبدیل نہ کر سکتا۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ایک شخص کو قیدی بنا کر بھیجے اور وہ اس دنیا میں آکر بادشاہ بن جائے۔دنیوی حکومتوں کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی تو خدائی گورنمنٹ کے احکام کو بدلنے کی کوئی شخص کس طرح طاقت رکھتا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تو ایک شخص کو سزا کے طور پر بیمار کرے اور وہ علاج سے اچھا ہو جائے۔اگر یہ تسلیم کیا جائے گا کہ خدا نے سزا کے طور پر کسی شخص کو بیمار بنایا ہے تو بہر حال یہ بات بھی ماننی پڑے گی کہ وہ علاج سے اچھا نہیں ہو سکتا۔مگر دنیا کے نظارے جو ہمیں روزانہ دکھائی دیتے ہیں اس حقیقت کو باطل ثابت کر رہے ہیں۔لوگ بیمار ہوتے ہیں اور علاج سے اچھے ہو جاتے ہیں۔غریب ہوتے ہیں اور محنت سے امیر ہوجاتے ہیں۔زہر کھا تے ہیں اور اس کے اثر سے مر جاتے ہیں حالانکہ اگر ہم گذشتہ جنم کو مانیں تو پھر تسلیم کرنا پڑ تا ہے کہ نہ بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے نہ کوئی غریب سے امیر ہو سکتا ہے نہ زہر سے ہلاک ہو سکتا ہے اور نہ دنیا کا کوئی اور عمل اس پر اثر کر سکتا ہے۔سابق جنم کے کرم ماننے کے نتیجہ میں صرف ایک ہی زندگی آزاد رہ سکتی ہے اور وہ انسان کی سب سے پہلی زندگی ہے۔باقی ساری زندگیاں اس سزا کے ماتحت جبری طور پر لانی پڑیں گی جو پہلے جنم کے اعمال کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ درست ہے تو وبائوں سے لوگ یا جانور کیوںمرتے ہیں؟آخر یہ کیا ہوتا ہے کہ یک دم ایک وبا پھیلتی ہے اور اس سے لاکھوں انسان اور جانور ہلاک ہو جاتے ہیں وہ کونسا جرم ہے جس کے نتیجہ میں