تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 308

ظاہر ہوئے۔بہر حال جس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہوں۔ان میں سے کسی ایک جواب کو بلا وجہ ترجیح دے دینا عقل کے با لکل خلاف ہے کوئی وجہ ہونی چاہیے جس کی بنا پر اس جواب کو ترجیح دی جاسکتی ہو۔مگر ایسی کوئی وجہ آج تک قائلین تناسخ کی طرف سے پیش نہیں کی جا سکی۔دوسرے ہم قا ئلین تناسخ سے کہتے ہیں کہ تم جس سوال کو تناسخ کی تائید میں پیش کرتے ہو ہم اسی سوال کو تناسخ کی تردید میں پیش کر دیتے ہیں۔اصل سوال یہ تھا کہ دنیا میں اختلاف کیوں ہے؟تم نے اس کا یہ جواب دیا کہ انسان کے سابق کرموں کا یہ نتیجہ ہے۔ہم کہتے ہیںاگر اس دنیا کی زندگی کسی سابق جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے اور انسان اپنے کرموں کی سزا بھگتنے کے لئے دنیا میں آیا ہے تو یہ کیا بات ہے کہ ایک بچہ پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے اسے کون سی سزا ملی جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا؟اگر ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد بڑا ہو تکلیفیں اٹھائے مصیبتیں جھیلے مختلف قسم کے دکھ برداشت کرے تب تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیکھ لو اسے اپنے پچھلے اعمال کی سزامل رہی ہے لیکن ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ادھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور ادھر مر جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوتا کہ اسقاط ہو جاتا ہے اگر انسان اپنے کرموں کی سزا کے لئے پیدا ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ بچہ جو پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے یا وقت پورا ہونے سے پہلے جو ماں کے پیٹ سے گر جاتا ہے اسے کون سی سزا ملی؟اس نے تو دنیا میں آکر کوئی تکلیف ہی نہیں اٹھائی۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گورنمنٹ کسی کو قید خانہ میں بھیجے مگر قید خانہ کی ڈیوڑھی سے ہی اسے گھسیٹ کر واپس لے آئے۔ایسا فعل یقیناً عقل کے خلاف ہوگا۔پس جہاں اس قسم کے حوادثات تناسخ کے خیال کی تائید میں پیش کئے جا سکتے ہیںوہاں یہ حوادث تناسخ کے خلاف بھی پیش کئے جا سکتے ہیں۔تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر تناسخ کا عقیدہ درست ہے تو کیوں انسان کے موجودہ اعمال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ اگر دنیا میں وہ سزا بھگتنے کے لئے آیا ہے تو یقیناً دنیا سے اسے کسی طرح چھٹکارا نہیں ہونا چاہیے۔فرض کرو ایک شخص کو اس کے سابق جنم کے برے اعمال کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا ملی ہے کہ وہ ۳۵ سال تک شدائد ومصائب میں مبتلا رہے تو اس کے بعد ضروری ہے کہ ۳۵ سال تک وہ اس سزا کو برداشت کرے۔مگر ہم دیکھتے ہیں دنیا میںبعض دفعہ جب ایک شخص تکالیف کو برداشت کرنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پاتاتو وہ زہر کھا کر اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے حالانکہ اگر تناسخ درست تھا اور اگر وہ ایک معین عرصہ کی قید بھگتنے کے لئے دنیا میں آیا تھا تو زہر کا اس پرکوئی اثر نہیں ہونا چاہیے تھا خواہ وہ لاکھ دفعہ زہر کھا تا اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوتا کیونکہ خدا نے اسے ایک معین سزا کے لئے دنیا میں بھیجا تھا۔مگر ہم دیکھتے ہیں زہر کھا کر وہ اپنی تکالیف کا فوراً خاتمہ کر لیتا ہے۔اسی طرح