تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 304
دیا جائے گا۔بہرحال اس سے فطرت کی خرابی نہیں بلکہ حالات کی خرابی ثابت ہوتی ہے اور یہ آیت اسی خیال کو پیش کرتی ہے کہ انسان کی پیدائش احسن تقویم میں ہے یہ نہیں کہتی کہ وہ بد حالات کے ماتحت بھی بد نہیں ہوتا۔غرض یہ آیات بتاتی ہیںکہ آدمؑ کا آنا۔نوحؑکا آنا۔موسٰی کا آنااور ان کا اپنی اصلاحی کوششوں میں کامیاب ہوجانااور دنیا کا ایک نئے رنگ میں بدل جاناثبوت ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پید اکیا ہے یعنی انسانی پیدائش ایسے اصول پر ہوئی ہے کہ وہ اعتدال کے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ سکتا ہے جیسا کہ اوپر کے واقعات سے ثابت ہے۔آدمؑ، نوحؑ، موسٰی اور ان کے متبع اس امر کا ثبوت ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ اس بات کا ثبوت بننے والے ہیںکہ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ۔انسانی پیدائش کے متعلق چوتھا نظریہ اور اس کا رد چوتھا عقیدہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انسان مجبور پیدا کیا گیا ہے۔گویا وہ قانونِ الٰہی کی وجہ سے برے افعال کرنے پر مجبور ہے اس میں انسان کا کوئی قصور نہیں۔اسلام اس عقیدہ کو کلی طور پر رد کرتا ہے اور چونکہ اس کو مذہبی لوگ پیش کرتے ہیں۔خصوصاً مسلمانوں کی طرف یہ عقیدہ منسوب ہے اس لیے قرآن کریم سے ہی اس کا رد پیش کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا(الفرقان :۶۳) یعنی وہ خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے جس نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنایاہے۔مگر اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اس بات کا ارادہ کر لیں کہ وہ نصیحت حاصل کریں گے یا ان کے اندر شکر گذاری کا مادہ پایا جاتا ہو۔اس آیت میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جن کی نیکی کا پہلو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ وہ شیطانی راہوں پر چلتے چلے جاتے ہیںاور اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں انتباہ کیا جائے اورانہیں برے افعال سے بچنے کی نصیحت کی جائے۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو گو اس روشنی اور نور سے محروم ہوتے ہیںجو مذہب کی اتباع میںانسان کو حا صل ہوتا ہے مگر ان کے اندر جذبۂ شکر گذاری پایا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی نعماء اور اس کی عطا کردہ قوتوں کا غلط استعمال نہیں کرتے بلکہ ان سے خود بھی فائد ہ ا ٹھاتے اوردوسروں کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا ایک وہ لوگ ہوتے ہیںجو نیکی اور اخلاق سے حصہ رکھتے ہیں۔فرماتا ہے ہم نے دنیا میںلیل اور نہار کا جو چکر رکھا ہوا ہے یعنی کبھی خدا کے نبی اور رسول دنیا کی اصلاح کے لیے آتے ہیں اور کبھی تاریکی اور ظلمت کا دور دورہ ہوتا ہے تم جانتے ہو اس روحانی رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں کیا حکمت ہے؟ ہم کیوں رات کے بعد دن لاتے