تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 303
اٹھائے تو حیوانوں سے بھی بد تر ہو جاتا ہے۔بہرحال اسلام یہ کہتا ہے کہ فطرت انسانی کو مستقل طور پر خراب قرار دینا اور اس کے لئے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ دائمی طور پر مسدود قرار دینا قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد امر ہے۔خدا نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ خواہ اس میں کتنی ہی خرابیاں پیدا ہو جائیں۔کتنی کمزوریاں اس میں رونما ہوجائیں پھر بھی اس کے دل کو صیقل کیا جا سکتا ہے۔اس کی خرابیوں کو دور کیا جا سکتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ کے آستانہ پر پہنچایا جا سکتا ہے۔آخر اسلام یہ تو نہیں کہتا کہ فطرتِ انسانی کے نیک ہونے کے یہ معنے ہیں کہ انسان ہمیشہ نیک رہتا ہے۔اسلام خود حالات کی خرابی کی وجہ سے فطرت کا مسخ ہو جانا تسلیم کرتا ہے۔مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اصلاح کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔جب بھی کوئی شخص اپنی حالت کو بدلنا چاہے۔برائیوں کو ترک کرنا چاہے۔نیکیوں کو حاصل کرنا چاہے وہ ایسا کر سکتا ہے کیونکہ خدا نے اس کی فطرت میں نیکی کی استعدادیں رکھی ہوئی ہیں۔اگر وہ ان سے کام نہیں لیتا تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔لیکن اگر وہ کام لے گا تو فطرت کی نیکی بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوشش کے باوجوداسے ہدایت حاصل نہ ہو یا قرب الٰہی کے مقام سے وہ دور رہے۔غرض اسلام ماحول کے اثرات کو تسلیم کرتا ہے۔اسلام یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ بچپن سے ہی نیک اور بد اثرات بچہ پر شروع ہو جاتے ہیں۔مگر ساتھ ہی اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ ہر شخص کی اصلاح ممکن ہے۔فرائیڈ نے جس تھیوری کو پیش کیا ہے اس کے ماننے والے بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کی اصلاح ہو سکتی ہے اور جب وہ اس نکتہ کو تسلیم کرتے ہیں تو صاف ظاہر ہو گیا کہ فطرت میں خدا نے نیکی کا ملکہ رکھا ہوا ہے اگر نیکی کا ملکہ اس میں نہ ہوتا تو اس کی اصلاح کس طرح ہوتی؟ اسی طرح ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر لوگ وعظ کا اثر قبول کرتے ہیں اور بڑی بڑی برائیوں کو چھوڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔اگر انسان میں نیکی کا ملکہ نہ ہوتا تو وعظ سے اس پر کیوں اثر ہوتا اور کیوں وہ اپنی برائیوں کو ترک کر کے نیکیوں کے حصول میں مشغول ہو جاتا؟ یہی حال دعا کا ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں بڑے بڑے انقلاب پیدا ہو جاتے ہیں۔وہ لوگ جو خدا کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتے جو ہر قسم کی برائیوں میں لذت محسوس کرتے ہیں جو اپنی زندگی کا مقصدمحض دنیوی لذائذ سے لطف اندوز ہونا قرار دیتے ہیں وہ انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی دعائوں اور قوتِ قدسیہ کی برکات سے ایسے بدل جاتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت آتی ہے۔یہ دونوں راستے جو روحانی اور جسمانی جدوجہد پر مشتمل ہیں دنیا میں ہمیشہ سے کھلے ہیں اور کھلے رہیں گے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا نے انسانی فطرت کو پاکیزہ بنایاہے۔باقی رہا یہ سوال کہ جن کو نیکی میں ترقی کرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا ان کا کیا حال ہو گا؟ تو یاد رکھنا چاہیے کہ شریعت کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر کسی فطرت کو خارجی اثرات سے پنپنے کا موقعہ نہیں ملے گا تو اسے پھر موقعہ