تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 298

مطابق فرشتہ نے ان عورتوں سے کہا کہ مسیحؑ جسے تم دیکھنے کے لئے آئی ہو وہ یہاں نہیں ہے بلکہ اپنے حواریوں کے پاس جلیل کو گیا ہے تم جائو اور دوسرے حواریوں کو بھی اس امر کی اطلاع دے دو چنانچہ انجیل میںلکھا ہے ’’فرشتے نے مخاطب ہو کر ان عورتوں سے کہا تم مت ڈرو میں جانتا ہوںکہ تم یسوع کو جو صلیب پر کھینچا گیا ڈھونڈتی ہو۔وہ یہاں نہیں ہے کیونکہ جیسا اس نے کہا تھا وہ جی اٹھاہے آئو یہ جگہ جہاں خداوند پڑا تھا دیکھو اور جلد جاکے اس کے شاگردوں سے کہو کہ وہ مردوں میں سے جی اٹھا ہے اور دیکھو وہ تمہارے آگے جلیل کو جاتا ہے وہاں تم اسے دیکھو گے دیکھو میں نے تمہیں جتا دیا‘‘ (متی باب۲۸آیت۵تا۷) یہ بھی لکھا ہے کہ یہود میں یہ مشہور تھا کہ پہرہ داروں کو رشوت دے کر یہ مشہور کیا گیا کہ وہ زندہ ہو کر چلاگیاہے ( متی باب ۲۸آیت۱۱تا۱۵) اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ پہرہ داروں نے یہی خبر دی تھی کہ مسیحؑ کے شاگرد زبردستی مسیحؑ کو کوٹھڑی میں سے نکال کر لے گئے ہیں مگر چونکہ یہود حضرت مسیحؑ کو لعنتی ثابت کرنا چاہتے تھے انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ پہرہ دار ٹھیک نہیں کہتے ان کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا گیا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ مسیحؑ زندہ ہو کر چلا گیا ہے۔پھر لکھا ہے مسیحؑ حواریوں پر ظاہر ہوا اور انہیں کہا کہ ’’میرے ہاتھ پائوں کو دیکھو کہ میں ہی ہوںاور مجھے چھوئو۔اور دیکھو کیونکہ روح کو جسم اور ہڈی نہیںجیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کے انہیںاپنے ہاتھ اور پائوں دکھائے‘‘ (لوقاباب۲۴آیت۳۹،۴۰) اسی طرح لکھا ہے ’’جب وے مارے خوشی کے اعتبار نہ کرتے اور متعجب تھے اس نے ان سے کہا کہ کیا یہاںتمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے تب انہوں نے بھونی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا اور شہد کا ایک چھتہ اس کو دیا اس نے لے کے ان کے سامنے کھایا‘‘ (لوقاباب ۲۴آیت۴۱تا۴۳) یوحنا میں لکھا ہے کہ تھوما حواری نے جب یہ بات سنی کہ حضرت مسیحؑ صلیب سے بچ گئے ہیںتو اسے یقین نہ آیا اور اس نے کہا ’’جب تک کہ میں اس کے ہاتھوں میں کیلوںکے نشان نہ دیکھو ںاور کیلوں کے نشانوں میںاپنی انگلی نہ ڈالوں اور اپنے ہاتھ کو اس کے پہلو میں بھی نہ ڈالوں ہر گز یقین نہ کروںگا‘‘ (یوحنا باب۲۰آیت۲۵) حضرت مسیحؑ نے یہ بات سنی تو انہوں نے تھوما کو کہا۔اپنی انگلی پاس لا اور میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا اور اسے میرے پہلو میں ڈال اور بے ایمان مت ہو بلکہ ایمان لا‘‘(یوحناباب۲۰آیت ۲۷) ان دلائل سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق یہ خیال کہ وہ صلیب پر لٹک کر مر گئے تھے با لکل باطل اور بے بنیاد ہے۔بے شک حضرت مسیحؑ کو صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔مگر خدا نے ان کو بچالیااور اس طرح وہ نشان ظاہر ہوا جس کا انہوں نے قبل از وقت اعلان کر دیا تھا کہ جس طرح یونہ نبی مچھلی کے پیٹ میں زندہ گیا، زندہ رہا اور زندہ ہی