تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 297
شکایت کی کہ تیسرے دن تک قبر کی نگرانی کی جائے چنانچہ لکھا ہے ’’ دوسرے روز جو تیاری کے دن کے بعد ہے سردار کاہنوں اور فریسیوںنے مل کر پیلاطوس کے پاس جمع ہو کے کہا کہ اے خداوند ہمیں یاد ہے کہ وہ دغاباز اپنے جیتے جی کہتا تھا کہ میں تین دن بعد جی اٹھوں گا۔اس لئے حکم کر کہ تیسرے دن تک قبر کی نگہبانی کریں‘‘ (متی باب۲۷آیت۶۲تا۶۴) اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کی یہ پیشگوئی کہ یہود کو وہی نشان دکھایا جائے گا جو یونس نبی کے ذریعہ ظاہر ہوا لوگوںمیںخوب مشہور ہوچکی تھی اور حواری اس پیشگوئی کے مطابق ہر ایک سے یہ کہتے پھرتے تھے کہ جس طرح یونس تین رات دن کے بعد مچھلی کے پیٹ میں سے زندہ نکل آیا اسی طرح مسیحؑ بھی تین رات اور دن کے بعد زندہ ہو جائے گا۔اس پیشگوئی کی بناء پر یہود سمجھتے تھے کہ تین دن اور رات گذرنے کے بعد حواریوں نے کہہ دینا ہے کہ دیکھو مسیحؑ زندہ ہو گیا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ پیلا طوس کو ابھی سے کہہ دیا جائے کہ جس کوٹھڑی میں مسیحؑ کی لاش کو رکھا گیا ہے اس پر تین دن تک پہرہ لگا دیا جائے تا کہ مسیحؑ کی یہ بات پوری نہ ہو سکے کہ میںیونس نبی کی طرح تین رات اور دن گذرنے کے بعد زندہ نکل آئوںگا۔مگر پیلا طوس چونکہ اندر سے مسیحؑ کے ساتھ تھا۔اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میں سرکاری پہرے دار مقرر نہیں کر سکتا’’تمہارے پاس پہرے والے ہیں جا کے مقدور بھر اس کی نگہبانی کرو‘‘ (متی باب۲۷آیت۶۵) یعنی تم خود پہرہ دیتے رہو میں سرکاری طور پر اس بارہ میں کوئی انتظام نہیں کرسکتا۔پیلا طوس کی اس انکار سے غرض یہ تھی کہ اگر حکومت کی طرف سے وہاں پہرے دار مقررکئے گئے تو اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہاں سے نکل نہیں سکیں گے اور اگر پہرے داروں کا مقابلہ کر کے نکلے تو چونکہ وہ حکومت کی طرف سے مقررہوں گے ان کا مقابلہ حکومت کا مقابلہ سمجھا جائے گا اور انہیں اور زیادہ مشکلات پیش آجائیں گی۔لیکن اگر عام لوگ پہرہ پر ہوئے تو ان کا مقابلہ کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا۔مسیحؑ کے حواری ان سے لڑیں گے اور مسیحؑ کو نکال کر لے جائیں گے۔اس حکمت کے ماتحت اس نے سرکاری پہرہ لگانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ میںپولیس مقرر نہیں کر سکتا۔اگر تم اس کی نگرانی کرنا ضروری سمجھتے ہو تو خود پہرہ لگا لو۔جب اتوار کی صبح کو پو پھٹتے وقت کچھ عورتیں وہاں گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں مسیحؑ نہیں ہیںاور ایک فرشتہ چٹان پر بیٹھا ہوا ہے۔چنانچہ لکھا ہے ’’سبت کے بعد جب ہفتہ کے پہلے دن پو پھٹنے لگی مریم مگد لینی اور دوسری مریم قبر کو دیکھنے آئیںاور دیکھو کہ ایک بڑا بھونچال آیا تھا کیونکہ خداوند کا فرشتہ آسمان سے اتر کے آیا اور اس پتھر کو قبر سے ڈھلکا کے اس پر بیٹھ گیا۔اس کا چہرہ بجلی کا سا اور اس کی پوشاک سفید برف کی سی تھی۔‘‘ (متی باب۲۸آیت۱تا۳) میں سمجھتا ہوں فرشتہ کوئی نہ تھا یہ حضرت مسیحؑ تھے جو باہر نکل کر چٹان پر بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے کفن پہنا ہوا تھا۔بہرحال انجیل کے بیان کے