تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 296
بدن ہونے کے بے ہوش ہوگئے۔اتنے میں آندھی آئی اور مسیحؑ کو اتار لیا گیا تاکہ کہیں سبت نہ آجائے۔جب آپ کو اور ان چوروں کو بھی اتار لیا گیا جن کو آپ کے ساتھ ہی صلیب پر لٹکایا گیا تھا تو قاعدہ کے مطابق ساتھ کے چوروں کی ہڈیاں توڑ دی گئیں مگر افسر پولیس چونکہ حضرت مسیحؑ کا مرید تھا جیسا کہ مرقس باب ۱۵ آیت ۳۹ اور متی باب ۲۷ آیت ۵۴ سے ظاہر ہے۔اس نے یہ چالاکی کی کہ حضرت مسیحؑ کے متعلق کہہ دیا یہ تو مرگیا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ ’’سپاہیوں میں سے ایک نے بھالے سے اس کی پسلی چھیدی اور فی الفور اس سے لہو اور پانی نکلا‘‘ (یوحنا باب ۱۹ آیت۳۴)۔لہو اور پانی کا نکلنا بتارہا ہے کہ آپ زندہ تھے اگر فوت ہوچکے ہوتے تو آپ کا خون جم جانا چاہیے تھا۔لیکن لہو اور پانی نکلنے کے الفاظ بتارہے ہیں کہ درحقیقت ان کے جسم میں سے بہتا ہوا خون نکلا۔مگر حضرت مسیحؑ چونکہ اس وقت بے ہوش تھے اس سپاہی نے لوگوں کو دھوکا میں مبتلا رکھنے کے لئے کہہ دیا کہ آپ فوت ہوچکے ہیں۔اس کے فوراً بعد یوسف آرمیتا جو حضرت مسیحؑ کے مرید تھے پیلاطوس کے پاس گئے اور اس سے اجازت لی کہ لاش میرے حوالے کی جائے چنانچہ پیلا طوس نے حکم دے دیا کہ لاش یوسف آرمیتہ کو دے دی جائے (متی باب۲۷آیت۵۸) لاش پر قبضہ کرنے کے بعد یوسف آرمیتہ نے ایک کھلی کوٹھڑی جیسی قبر میں ان کو بند رکھا جو زمین میں کھودی ہوئی نہ تھی بلکہ کوٹھڑی کی طرح چٹان میں کھدی ہوئی تھی اس میں ان کے جسم کو رکھ کر اس کے سامنے پتھر رکھ دیا گیا۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ہوا کا راستہ کھلا رکھا گیا۔چنانچہ لکھا ہے :’’ یوسف نے لاش لے کر سوتی صاف چادر میںلپیٹی اور اپنی نئی قبر میںجو چٹان میں کھودی تھی رکھی اور ایک بھاری پتھر قبر کے مونہہ پر ڈھلکا کے چلا گیا‘‘ (متی باب ۲۷آیت۵۹،۶۰) ’’جیوش انسائیکلو پیڈیا‘‘ نے بھی اس سوال کو خاص طور پر اٹھایا ہے۔چنانچہ اس میں لکھاہے۔Bodies of delinquents were not buried in private graves (snah:vi:5) while that of Jesus was buried in a sepulcher belonging to Joseph of Arimathea۔(Jewish Encyclopaedia vol۔4, p۔373) (Jewish Encyclopedia Under Word Crucifixion) یعنی مجرموں کی لاشیں خاص قبروں میں نہیں دفنائی جاتی تھیںلیکن یسوع مسیحؑ کے ساتھ یہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا کہ اس کی نعش یوسف آرمیتا کی مملوکہ ایک کھلی کوٹھڑی میں رکھی گئی۔یہود کو اس پر شبہ ہوا اور انہوں نے پیلا طوس سے